-بابا جی نے کامیابی کا گر بتایا

اب مجھے بابا جی کی باتیں سمجھ آ رہی تھیں۔ وہ پچھلے پون گھنٹے سے میرے ساتھ مغز ماری کر رہے تھے۔ میں ان کی باتوں کو اک خام خیالی تصور کررہا تھا۔ مجھے ان کی باتیں انوکھی اور عجیب سی لگ رہی تھیں۔ مجھے ان کے نظریات دقیانوسی لگ رہے تھے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ ان فرسودہ خیالات کی حقیقت قصے کہانیوں سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

بابا جی آج صبح کسی کام سے والد صاحب سے ملاقات کرنے آئے تھے۔ مگر آگے ان کی ملاقات مجھ جیسے نکھٹو سے ہوگئی۔ جو کسی معجزے کے انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا منتظر فردا تھا۔ آخر وہ ہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پوچھ بیٹھے کہ احمد میاں آج کل کیا ہو رہا ہے؟

کچھ نہیں۔ ایک دو جگہ نوکری کی ٹرائی کر رہے ہیں مگر ہمارے سٹینڈر کی کوئی ملازمت مل ہی نہیں رہی۔ ہم نے مطمئن لہجے میں جواب دیا۔

باباجی نے اپنی ہتھیلی کی پشت سے ٹھوڑی کھجائی اور ڈاڑھی بال صحیح کیے۔ اور عینک کے بالائی حصے سے میری طرف دیکھنے لگے۔ اور گویا ہوئے کہ تم کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کیوں نہیں کر لیتے۔

میں نے زور سے قہقہہ لگایا۔ اور ان کی طرف دیکھنے لگا۔ ہنہ ۔۔۔ کہاں کاروبا ر اور کہاں ہم۔ ہم جیسے غریب لوگوں کو اگر نوکری ہی مل جائے نا تو بڑی بات ہے، اور آپ کاروبا ر کی بات کرتے ہیں۔ میں نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا ۔

باباجی نے لمبی سانس لی اور فرمانے لگے: بیٹا آج تک کوئی نوکری کر کے کامیاب نہیں ہوا۔ اور کامیابی کسی مالدار کے گھر کی لونڈی نہیں۔ کامیابی نے ہمیشہ جھونپڑی میں جنم لیا ہے، اور عالیشان محل میں جوان ہوئی ہے۔ کامیابی کا تعلق کسی امیر کسی غریب سے نہیں ہے۔ باری تعالی کا ایک قانون ہے کہ محنت کا صلہ لازمی ملتا ہے۔ چاہے محنتی انسان کافر ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں تمہیں گھر آ کر کوئی بھی کامیابی کی ڈگری نہیں دے گا۔ کامیابی کے لیے تمہیں محنت کو اوڑھنا بچھونا بنان اہوگا۔ اگر تمہارے پاس ہنر ہے اور تم محنتی ہو تو دنیا جہاں میں کامیابی تمہاری منتظر ہے۔ نہیں تو نکھٹو بندے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں۔

میں نے باباجی سے پوچھا کاروبار کرنے کے لیے تو سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت زیادہ مال ودولت کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کہ پاس کچھ بھی نہ ہو اور وہ محنت کے بل بوتے پہ کامیاب شخص بن جائے، ایک اپنا کاروبار سٹینڈ کر لے۔

باباجی نے چشمہ درست کیا اور کہنے لگے: بیٹا تاریخ میں بیسیوں مثالیں موجود ہیں، جو خاندانی امیر نہیں تھے، محنت نے انہیں امارت کی دنیا میں صف اول میں لاکھڑا کیا۔ ہندوستان کہ پہلے مسلمان بادشاہ قطب الدین ایبک ایک غلام تھے، مگر محنت کے بل بوتے پہ دنیا نے انہیں بادشاہ بنادیا۔ نیپولین ایک غریب آدمی تھا۔ ابراہم لنکن ایک غریب کسان کا بیٹا تھا۔ شاہ ناصر الدین ٹوپیاں بنا بنا کے بیچا کرتا تھا، اور روزی کماتا تھا۔ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر ایک عالیشان سلطنت کے بادشاہ ہونے کے باوجود محنت مزدوری کیا کرتے تھے۔ کے ایف سی کا مالک ایک معمولی کنٹین چلانے والا تھا۔ محنت کے بل بوتے پر دنیا کی نامور شخصیت بننے کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

میں نکھٹو سمجھ رہا تھا کہ کامیاب وہی شخص ہے جو سونے کا چمچ منہ میں لے کہ پیدا ہوتا ہے، جس کے پاس بہت سا پیسہ ہو وہی کاروبار کر سکتا ہے، وہی اس دنیا میں کامیاب وکامران ٹھہر سکتا ہے۔ مگر بابا جی کی سوچ اس کے برعکس تھی ۔ وہ کامیابی کا دارومدار محنت بتا رہے تھے۔ وہ کامیابی میں اقبال کے نظریات کے حامی تھے۔ اب ان کی باتیں میرے پلے پڑ رہی تھیں۔

بابا جی کہنے لگے: یہ دنیا مردان جفاکش کے لیے زرخیز زمین کی مانند ہی وہ اپنی بساط محنت کے مطابق پھل پاتا ہے۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے۔ وہ گردش حالات کا شکوہ بھی نہیں کرتا۔ وہ اپنی محنت کی دھن میں مگن رہتا ہے۔ وہ ناکامیوں سے مایوس ہو کت محنت کو پس پشت نہیں ڈالتا بلکہ ناکامیوں کو زینہ بنا کر کامیابی کی پروان چڑھتا جاتا ہے۔ بالآخر وہ اپنی منزل پالیتا ہے۔ کامیابیاں اس کے قدم چومنے لگتی ہیں۔

باباجی کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی۔وہ کہہ رہے تھے: جب وہ کامیابی کی بلندی پر پہنچ جاتا ہے تو پہاڑ بھی اسے رستہ دے دیتے ہیں۔ اس کے لیے سمندر بھی اپنی کمر پیش کر دیتا ہے۔گھنے جنگلات بھی اسے خوفزدہ نہیں کرتے۔ خار دار راستے بھی اس کے لیے گل و گلزار بن جاتے ہیں۔

باباجی اب آپ ہی بتا دیں میں کیا کروں؟ کون سا ایسا کاروبار شروع کروں جو تھوڑے سرمائے سے ہو سکے۔ میرے پاس چالیس ہزار کی مالیت کا موبائل فون ہے۔ اسے بیچ کر میں اپنا کاروبار شرو ع کر لوں: میں نے سوالیہ انداز میں باباجی کی جانب دیکھا۔

کہنے لگے: بیٹا! اتنی مالیت سے تم پھلوں یا فروٹ کا ٹھیلہ لگا سکتے ہو۔ فوٹو سٹیٹ کی مشین لگا سکتے ہو۔ دھوبی کی دکان کھول سکتے ہو۔ الیکٹریشن کا سامان رکھ سکتے ہو۔ سردیاں شروع ہو رہی ہیں تم کافی یا سوپ کا ٹھیلہ بھی لگا سکتے ہو۔ ایک بات یاد رکھو! محنت کرنے میں کبھی عار محسوس مت کرو۔ کام کو کبھی بھی چھوٹا نہ جانو۔ کام کو چھوٹا سمجھنا ناکامی کا زینہ ہے۔ حصول رزق حلال عبادت ہے۔ دو جہانوں کے سردار آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم بھی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ محنت کر کے کھانے والے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دوست کہا ہے۔ بیٹا میرا کام تو تمہیں سمجھانا ہے باقی تمہاری مرضی۔

باباجی میں آج ہی موبائل مارکیٹ جا کر موبائل سیل کرتا ہوں۔ میں نے مثبت انداز میں جواب دیا۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x