غربت کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے؟

رضا ایک غریب نوجوان تھا۔ بچپن ہی میں اس کے والد فوت ہو گئے۔ والدہ نے سلائی کڑھائی کر کے بچوں کو پالنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ رضا تعلیم میں اچھا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ کرکٹ کا بھی اچھا کھلاڑی تھا۔ وہ اپنے شہر کی ٹیم کی نمائندگی کرتا تھا اور عین ممکن تھا کہ اس کے کھیل کے باعث اسے کسی ادارے کی ٹیم میں جگہ مل جاتی اور وہ ترقی کرتے کرتے قومی ٹیم تک پہنچ جاتا۔

رضا ایک حساس لڑکا تھا۔ کالج میں اس کے دوست اچھے کپڑے پہنتے، کاروں میں آتے، کینٹین میں دوستوں کو کھلاتے پلاتے تو اسے اس کا بڑا دکھ ہوتا کہ یہ سب کچھ میرے پاس کیوں نہیں ہے۔ کالج ہی میں اس کی ملاقات ایک ایسی تنظیم کے پرجوش کارکنوں سے ہوئی جو طبقاتی تقسیم کے خلاف جدوجہد کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے رضا کو بتایا کہ تمہاری یہ غربت اس وجہ سے ہے کہ کچھ لوگوں نے معاشرے کی دولت کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ غربت ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اس طبقے کے خلاف جدوجہد کی جائے اور معاشرتی انصاف پر مبنی نظام قائم کیا جائے۔

رضا کو یہ باتیں بہت پسند آئیں اور اس نے بھی اس تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی۔ تنظیمی کاموں کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ہر وقت تنظیمی لٹریچر کا مطالعہ کرتا، اجتماعات میں شرکت کرتا اور احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیتا۔ ان سب سرگرمیوں کے باعث اس کی تعلیم متاثر ہوئی اور وہ امتحان میں فیل ہو گیا۔ اس نے دو تین مرتبہ مزید امتحان دینے کی کوشش کی لیکن تنظیمی سرگرمیوں کے باعث اس کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ وہ تعلیم کی طرف توجہ دیتا، اس وجہ سے وہ ناکام ہو گیا۔

رضا اور اس کے جیسے اور بہت سے نوجوانوں کی محنت اور کوشش سے تنظیم کا شمار ملک کی اہم سیاسی جماعتوں میں ہونے لگا اور تنظیم کے قائدین جو نچلے درجے کے سیاست دان تھے، اب ملکی سطح کے سیاست دانوں میں شمار ہونے لگے۔ اس تنظیم نے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بھی بنا لی۔ رضا اور اس کے ساتھیوں کی جدوجہد کا پورا فائدہ ان کے قائدین نے اٹھایا۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں رضا اور اس کے ساتھیوں کی غربت تو دور نہ ہو سکی البتہ ان کے لیڈروں کی غربت ضرور دور ہو گئی۔

انسان کی بھوک ایسی چیز ہے جو اسے کسی صورت میں بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ رضا نے بھی محنت مزدوری شروع کی لیکن اس سے غربت دور نہ ہو سکتی تھی۔ اس صورتحال نے رضا کو بہت مایوس کر دیا اور وہ نشہ کرنے لگا۔ اس کی والدہ اس کے حالات کو دیکھ کر جلتی کڑھتی رہیں۔ ایک دن نشے کے عالم میں ہی وہ ایک بس سے ٹکرایا اور اس جہان فانی سے کوچ کر گیا اور اپنے پیچھے ماں کو روتا چھوڑ گیا۔

یہ کہانی یہاں مکمل نہیں ہوتی۔ رضا کا ایک کزن عبداللہ بھی تھا جو اسی قسم کے حالات سے نبرد آزما تھا۔ اس کی والدہ بھی محنت مزدوری کر کے اس کی پرورش کر رہی تھیں۔ کالج میں عبداللہ کی ملاقات ایک مذہبی تنظیم کے کارکنوں سے ہوئی۔ وہ ان کی باتوں سے متاثر ہوا اور اس تنظیم میں شامل ہو گیا۔ مذہبی تنظیم کے مبلغین دنیا کو فانی اور حقیر قرار دیتے اور اپنے کارکنوں سے مطالبہ کرتے کہ اس دنیا کے پیچھے اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے دین کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کرنی چاہیے۔ دین کی خدمت سے ان کی مراد یہ تھی کہ کارکن اپنا وقت تنظیمی معاملات میں صرف کریں۔

اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بہت سے نوجوان اپنی تعلیم کو ترک کر چکے تھے اور پورا وقت تنظیمی معاملات میں لگا رہے تھے۔ عبداللہ بھی انہی معاملات کی وجہ سے ایک مرتبہ انٹر کے امتحان میں ناکام ہوا۔ عین ممکن تھا کہ عبداللہ بھی اپنی تعلیم کو ترک کر دیتا لیکن اس کی خوش قسمتی کہ اس کی ملاقات تنظیم کے ایک اعلی عہدے دار سے ہوئی۔ یہ صاحب تنظیم کے دوسرے قائدین کی نسبت کھلے ذہن کے تھے۔ انہوں نے عبداللہ کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے اسے مشورہ دیا کہ وہ زیادہ وقت اپنی تعلیم میں صرف کرے کیونکہ ان کی تنظیم کو اعلی تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ مشورہ عام قائدین کی سوچ کے برعکس تھا۔

عبداللہ نے نہایت محنت سے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور جلد ہی انٹر پاس کر لیا۔ اس کے بعد اس نے گریجویشن اور ماسٹرز تک تعلیم مکمل کر لی۔ تعلیمی مصروفیات سے فارغ ہو کر جو وقت اس کے پاس بچتا، وہ اسے دینی معاملات میں صرف کرتا۔ کچھ مسائل پر اس کے اپنی تنظیمی قیادت سے اختلافات پیدا ہوئے اور اس نے تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس نے اپنے طور پر دعوت دین کا کام جاری رکھا۔

پوسٹ گریجویشن کے بعد عبداللہ نے نوکری کی تلاش شروع کی۔ بالآخر اسے ایک کمپنی میں نوکری مل گئی۔ یہاں کام کلیریکل نوعیت کا تھا۔ دو تین سال کے بعد عبداللہ کو اندازہ ہوا کہ ملکی یونیورسٹی کی ڈگری کے ساتھ اسے کلرکی ہی مل سکتی ہے۔ اعلی عہدوں پر تو وہ لوگ فائز ہیں جن کا تعلق یا تو کسی بڑے خاندان سے ہے یا پھر وہ مغربی ممالک کے تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ ہیں۔

عبداللہ نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کی اور انٹر نیٹ کے ذریعے برطانیہ کے ایک ایسے ادارے میں داخلہ لیا جس کی مارکیٹ میں بہت مانگ تھی۔ مسلسل محنت کر کے عبداللہ نے جلد ہی یہ امتحان پاس کر لیا۔ اس ڈگری کی بنیاد پر اسے جلد ہی ایک بہت اچھی نوکری مل گئی اور اس کی غربت دور ہو گئی۔ اب عبداللہ کو وہ سب کچھ حاصل ہو چکا تھا جس کی خواہش اس نے اور اس کے کزن رضا نے کی تھی۔ اس نے اپنی والدہ کے ساتھ ساتھ رضا کی والدہ کی خدمت کرنا بھی شروع کر دی۔ اس طرح رضا کی والدہ کو اپنے بیٹے کی صورت میں جو سکون نہ مل سکا تھا، وہ عبداللہ نے پورا کر دیا۔

عبداللہ کے ذہن میں جوانی کے اوائل ہی میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ اسے دین کی خدمت میں کچھ وقت صرف کرنا ہے اس وجہ سے اس نے اپنے وقت اور دولت کا ایک حصہ دین کے لئے وقف کر دیا اور آہستہ آہستہ اس نے دعوت دین کا ایک ادارہ قائم کر لیا۔

ان دونوں کی زندگی سے ہمیں بہت سے سبق ملتے ہیں۔

  • غربت کا خاتمہ احتجاجی مظاہروں اور حکومت سے مطالبات کرنے سے کبھی نہیں ہو سکتا۔ جو شخص اپنی غربت کو ختم کرنا چاہتا ہے، اس کے لئے صرف اور صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے تعلیم۔
  • جو لیڈر کسی طالب علم کو تعلیم سے ہٹا کر دوسری سرگرمیوں میں مشغول کرنا چاہتا ہے وہ اس کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ وہ دراصل اس طالب علم کی زندگی کی قیمت پر اپنے قد و کاٹھ میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔
  • منفی طریق کار سے دوسروں کو پریشان تو کیا جا سکتا ہے لیکن ایک مثبت زندگی کی تعمیر کرنا ناممکن ہے۔ تعمیر صرف وہی کر سکتا ہے جو مثبت ذہن رکھتا ہو۔
  • تعمیر کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ یہ ایک طویل جدوجہد کے بعد ہی ممکن ہے۔ اس کے برعکس تخریب کا کام تھوڑی سی دیر ہی میں مکمل ہو جاتا ہے۔

محمد مبشر نذیر

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x