مسلمانوں کے کرنے کا کام

پیو ریسرچ سنٹر ایک غیر سیاسی تحقیقاتی فیکٹ ٹینک (Fact Tank) ہے، جو ان رجحانات، رویوں اور معاملات سے متعلق معلومات جمع کرتا ہے جو امریکہ اور دنیا بھر میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔ اس ریسرچ سنٹر نے دسمبر 2011ء میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ جس کا عنوان درج ذیل ہے۔
Global Christianity
A Report on the Size and Distribution of the World146s Christian Population

اس ادارے کی رپورٹس ہمارے میڈیا میں اکثر شائع ہوتی ہیں، مگر اس ادارے کا تعارف بیان نہیں کیا جاتا۔ اس لیے میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے اس ادارے کا مختصر تعارف بھی نقل کررہا ہوں جو اسی رپورٹ کے آغاز میں درج ہے۔
The Pew Research Center is a nonpartisan fact tank that provides information on the issues, attitudes and trends shaping America and the world. The center conducts public opinion polling, demographic studies, content analysis and other empirical social science research. It does not take positions on policy issues. The Pew Forum on Religion & Public Life is a project of the Pew Research Center; it delivers timely, impartial information on the issues at the intersection of religion and public affairs in the U.S. and around the world. The Pew Research Center is an independently operated subsidiary of The Pew Charitable Trusts.

130 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی رپورٹ دنیا بھر میں مسیحی آبادی کی تمام تر معلومات جزئی تفصیلات سمیت بیان کرتی ہے۔اس رپورٹ کی تیاری میں دوسو سے زائد ممالک کی آبادی کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے کن ممالک میں کتنے عیسائی ہیں۔ کہاں وہ اقلیت میں اورکس جگہ اکثریت میں ہیں۔ ممالک کے علاوہ براعظموں اور بڑی جغرافیائی اور نسلی اکائیوں کے حوالے سے بھی مسیحی آبادی کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ اندرونی طور پر خود مسیحیت کے مختلف فرقوں مثلا کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور آرتھوڈاکس وغیرہ کی آبادی نیز ان کی جغرافیائی تقسیم یعنی کس فرقے کے لوگ مختلف ممالک میں کس تعداد میں آبادہیں، یہ ساری تفصیلات بھی اس رپورٹ میں موجود ہیں۔
میں رپورٹ کے اہم مندرجات اور اس حوالے سے اپنی گزارشات پر تو بعد میں آؤں گا ، مگر سچی بات یہ ہے کہ اتنی تفصیلی معلومات اور ڈیٹاکو ایک جگہ پر دیکھ کر میں بے اختیار ان لوگوں کو داد دینے پر خود کو مجبور پاتا ہوں۔ہمارے ہاں تو جس شخص کو اللہ صلاحیت اور مقبولیت عطا کرتا ہے اسے کرنے کا ایک ہی کام نظر آتا ہے۔ وہ یہ کہ سیاست کے میدان میں کود جائے۔ ہمارے ہاں آج تک لوگ یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ علم، تعلیم، معلومات اور ادارے ؛معاشرے میں ترقی اور تبدیلی کی اساس ہوتے ہیں۔ یہ سب مل کر معاشروں میں فکری تبدیلی لاتے ہیں اور اس کے بعد جاکر سیاست کے ایوانوں اور میدانوں میں با معنی تبدیلی آتی ہے۔ نوٹ کرلیجیے میں نے با معنی تبدیلی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اقتدار کے ایوان میں صرف تبدیلی آجانے سے کچھ نہیں ہوتا۔

رپورٹ کے اعداد و شمار

اب آئیے رپورٹ کے مندرجات کی طرف۔ اس رپورٹ کے مطابق جو سن 2010ء تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، مسیحیت دنیا میں اس قدر پھیل چکی ہے کہ دنیا کا ہر تیسرا شخص ایک مسیحی ہے۔ دنیا کی 6.9 ارب آبادی میں سے 2.18 ارب لوگ دین مسیحیت کے علمبردار ہیں۔ اس رپورٹ میں ایک اور اہم نکتہ یہ بیان ہوا ہے کہ مسیحیت جو پچھلے ہزار برسوں تک براعظم یورپ کا ایک مذہب تھی، اب دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔ اس بات کو اعداد و شمار کی شکل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ 1910ء میں دنیا بھر کی مسیحی آبادی کا 66.3 فیصد حصہ یورپ اور 27.1 فیصد حصہ براعظم شمالی و جنوبی امریکا میں تھا۔ گویا ان دو براعظموں سے باہر مسیحی آبادی عملاً موجود ہی نہیں تھی۔

جبکہ ایک صدی بعد یعنی سن 2010ء میں صورتحال یہ ہے کہ امریکہ میں 36.8% اور یورپ میں25.9% مسیحی آباد ہیں، جبکہ صحرائے اعظم کے نیچے واقع افریقہ کا تمام علاقہ یا دوسرے الفاظ میں شمالی افریقہ کو چھوڑ وسطی اور جنوبی افریقہ میں 23.6% اور ایشیا پیسیفک کے علاقے میں 13.1% مسیحی آبادی موجود ہے، جبکہ باقی دنیا کے دیگر خطوں میں موجود ہیں۔ گویا کہ مسیحی آبادی کا چالیس فی صد حصہ اب یورپ اور امریکا سے باہر ہے جو ایک صدی قبل نہ ہونے کے برابر تھا۔

مسیحی مشنریوں کی کامیابی

یہاں میں ایک دو چیزوں کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔ پہلی یہ کہ یورپ اور امریکہ میں جو آج بھی مسیحی آبادی کے بنیادی گڑھ ہیں، آبادی میں اضافے کی شرح پیدائش کی بنیاد پر بہت کم ہے اور یہ معاملہ کم و بیش ایک صدی سے جاری ہے۔ دوسرے یہ کہ پچھلی صدی میں جو دو عظیم جنگیں لڑی گئیں، وہ اصلاً براعظم یورپ کی مسیحی طاقتوں کے درمیان میں تھیں اور ان میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔ تیسرا یہ کہ امریکہ اور خاص طور پر یورپ میں مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد الحاد کو اختیار کرچکی ہے اور وہ خود کو مسیحیت سے وابستہ کہلانا پسند بھی نہیں کرتے۔ ان حقائق کی روشنی میں جو اصل بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ مسیحیت میں جو تمام تر فروغ ہوا ہے، آبادی میں اضافہ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ دراصل مسیحی مشنریوں کی غیر معمولی محنت، جدوجہد اور قربانی کا نتیجہ ہے۔

میں یہ بات اس پس منظر میں عرض کر رہا ہوں کہ ہمارے ہاں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے پر بہت فخر کیا جاتا ہے، مگر درحقیقت یہ تمام تر اضافہ مسلم ممالک میں زیادہ شرح پیدائش کی بنا پر ہے۔ اس کا مسلمانوں کی دعوتی جدوجہد یا دین پھیلانے کی کسی کوشش سے کوئی تعلق نہیں۔ پچھلی کئی صدیوں سے کوئی نئی قوم اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہوئی۔ جس امریکہ اور یورپ کے بارے میں ہم بہت فخر کرتے ہیں کہ وہاں اسلام سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ہے، اس میں بلاشبہ تبدیلی مذہب کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے لیکن دیگر اہم وجوہات میں کثرت سے مسلمانوں کی یورپ اور امریکہ ہجرت اور وہاں بھی ان کی شرح پیدائش میں مقامی لوگوں سے زیادہ اضافہ شامل ہے.

جبکہ آپ دیکھ لیجیے کہ مسیحی مبلغین بڑے فخر سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ پچھلی ایک صدی میں انہوں نے افریقہ اور ایشیا پیسفک کے ممالک کی کئی اقوام کو مسیحیت کے دائرے میں شامل کیا ہے۔ مثلاً وسطی اور جنوبی افریقہ میں مسیحیو ں کی آبادی کا تناسب ایک صدی قبل صرف 1.4% تھا جو اب 23.6% ہوچکا ہے۔ جبکہ ایشیا پیسیفک میں ان کی تعداد میں تین گناہ اضافہ ہوا ہے۔

مسلمان اورشرک کا فروغ
مجھے احساس ہے کہ آج کا مسلمان فخر کی جس نفسیات میں جینے کا عادی ہے، اسے میری باتیں اچھی نہیں لگ رہی ہوں گی۔آج کا مسلمان صرف وہ جذباتی باتیں سننا چاہتا ہے جو اس کے دل کو بھائیں۔ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی، مسلمانوں کو دوبارہ دنیا کی سپر پاور بنانے کی باتیں، اپنی ہر کمزوری کی وجہ غیر مسلم طاقتوں کی سازشوں کو قرار دینا وغیرہ یہ وہ باتیں ہیں جنھیں کرکے میں اپنی مقبولیت میں بہت اضافہ کرسکتا ہوں۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کا تقاضہ ہے کہ لوگوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے ، چاہے کسی جذباتی اور سطحی آدمی کو یہ باتیں کتنی بری کیوں نہ لگیں۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو بہرحال اب بھی سچ سن کر اپنی اصلاح کرنا چاہتی ہے۔

سچ یہ ہے کہ مسیحیت کا فروغ شرک کا فروغ ہے۔ اس شرک پر اللہ تعالیٰ نے اپنا تبصرہ کیا ہے وہ خود قرآن کریم میں ملاحظہ فرمائیے۔ اللہ کی اولاد بنائے جانے کے مشرکانہ عقیدے پر اللہ تعالیٰ اس طرح تبصرہ کرتے ہیں:
اور یہ کہتے ہیں کہ خدائے رحمان نے اولاد بنارکھی ہے۔ یہ تم نے ایسی سنگین بات کہی ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ دھماکے کے ساتھ گرپڑیں کہ انہوں نے خد ا کی طرف اولاد کی نسبت کی۔،(مریم88-91:19)۔
ایک حدیث قدسی میں شرک کے بارے میں یہ بیان ہوا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف ہے،( صحیح الجامع رقم:4323)۔

یہ قرآن وحدیث میں شرک پر تبصرہ ہے۔ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ہر سال زور وشور سے میلاد النبی مناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ محبت رسول کا حق ادا کردیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ڈنمارک میں گستاخی ہوجائے تو ہر طرف آگ لگ جاتی ہے۔ آہ مگر اللہ کو گالیاں دینے والے بڑھتے جارہے ہیں اور کسی کی پیشانی پر شکن تک نہیں آتی۔ کسی کی نیند حرام نہیں ہوتی۔قوموں کی قومیں حلقہ مسیحیت میں داخل ہوکر اللہ کو گالیاں دے رہی ہیں، مگر افسوس کہ توحید کے نام لیوا کچھ اور ضروری کام کر رہے ہیں۔ اگر فارغ ہوگئے تو شاید کچھ اس بارے میں سوچ لیں۔

آج کوئی نہیں جو خدا کی عظمت کا علم اٹھاکر ، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور آپ کے لائے ہوئے پیغام توحید کو مقصد بنالے ۔یہاں تو فرقہ پرستی ہے، اسلاف پرستی ہے، قوم پرستی ہے، ظاہر پرستی ہے ، نہیں ہے تو سچی خدا پرستی نہیں ہے۔

یہ ملاقات صرف اس نوٹ پر ختم کررہا ہوں جو شائد کسی دردمند شخص کو اپیل کرجائے۔ یہ رپورٹ صرف یہ بتارہی ہے کہ دنیا کا ہر تیسرا انسان نادانستگی میں اللہ تعالیٰ کو گالیا ں دے رہا ہے۔ اور ہم اس آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر واحد گروہ ہیں جو لوگوں کی اس غلط فہمی کو دور کرسکتے ہیں۔مگر یہاں کون ہے جو توحید کا علم ہاتھ میں اٹھاکر لے کر ہدایت کی شمع سے شرک کے اندھیروں کو مٹانے کا عزم کرلے-

 ابویحییٰ

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x