ہم خوش قسمت ہیں۔

آسان ترین دور

انسانی تاریخ پر نظر رکھنے والے لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس دور میں ہم جی رہے ہیں، اس میں سائنس اور سماجیات کی ترقی نے زندگی کو اتنا آسان بنا دیا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔ آج ہم موسموں کو خود کنٹرول کرتے ہیں۔ سخت سردی میں ہیٹر اور سخت گرمی میں ائیر کنڈیشننگ سسٹم کی وجہ ہم سردی گرمی سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔ ہماری تاریک راتیں اب دن کی طرح روشن رہتی ہیں اور مہینوں کے طویل فاصلے چند گھنٹوں کے آسان سفر میں بدل چکے ہیں ہم پردیس میں مقیم رشتہ داروں سے آمنے سامنے اور جب چاہیں بات کرسکتے ہیں ۔ گھر سے نکل کر ہم دفتر جائیں، راستےمیں ہوں یاپھر دنیا میں کہیں موجود ہوں، ہمارے گھر والے موبائل فون سے ہمہ وقت ہم سے رابطے میں رہتے ہیں۔

سماجی سطح پر اسی نوع کی تبدیلیوں نے زندگی کو بہتر بنا دیا ہے۔ ہم اپنے ملک کی بات چھوڑ دیتے ہیں جہاں اس خوالے سے ہیں بہت سفر طے کرنےکی ضرورت ہے، مگر مہذب دنیا میں قانون کی نظر میں ایک حکمران اور عام شہری برابر ہو چکے ہیں۔ معاشرتی سطح پر انسانیت کی سب سے بڑی کامیابی غلامی کا خاتمہ ہے جس میں کسی بھی مردوعورت کو پکڑ کر لونڈی غلام بنا لیا جاتا ہے ۔آج کے دور میں یہ ایک ناقابل تصور بات ہے۔

مذہبی آسانیاں

سماجی سطح کی ایک اور بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب لوگوں کو آزادی حاصل ہے جو عقیدہ چاہں رکھیں اور جس مذہب کے طریقے پر چاہیں عبادت کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے بیشتر ھصے میں ایک عام انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ھا کہ بادشاہ یا ریاست کے مذہب سے ہٹ کے کوئی اور مذہب اختیار کر سکے۔ لوگ جب پیغمبروں کی دعوت قبول کرتے تھے تو ان پر بدترین ظلم و ستم کیا جاتا تھا۔ ان کو بے رحمی سے قتل کر دیا جاتا۔ ان کے مال اور آبرو پر حملہ کیا جاتا۔ان کو گھر اور وطن چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا مگر آج اللہ تعالیٰ نے یہ آسانی پیدا کر دی ہے کہ ہم جہاں چاہیں رہیں اور اپنے مذہب پر جس طرح چاہیں عمل کریں کوئی چیز اس امر میں مانع نہیں۔

یہی نہیں بلکہ ہمیں اس چیز کی بھی مکمل آزادی ہے کہ ہم غیر مسلم ممالک میں رہتے ہوئے ان کو اسلام کی دعوت دیں۔ ان تک حق کا پیغام پہنچائیں۔ وہ دعوت حق قبول کریں یا نہ کریں یہ ان کی مرضی لیکن ہمارے لیے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہمیشہ سے زیادہ آسان ہو گیاہے۔

اس میں  ایک مزید اضافی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انفارمیشن ایج کے ذریعے وہ آسانیاں پیدا کر دی ہیں کہ ہم بہت کم کوشش کے ساتھ بہت بڑے پیمانے پر سچائی کو تمام انسانیت تک پہنچاسکتے ہیں۔ جنکہ اس سے قبل صرف اپنی قوم تک بات پہنچانے کے لیے لوگوں کی ساری زندگی بھی کافی نہ تھی۔

اندر کی لڑائی

ہمارے لیے ان ایک عظیم موقع پیدا ہو چکا ہے کہ ہم ان آسانیوں کو محسوس کریں اور دین پر عمل کرنے اور دین کو پھیلانے کے حوالے سے جو ہماری ذمہ داری ہے اس کو ادا کرنے کی پوری کوشش کریں۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ کچھ مشکلات ابھی باقی ہے جو دور کیے بغیر ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔ لیکن ان مشکلات کا تعلق خارج سے نہیں بلکہ اپنی ذات سے ہے۔ یعنی اب مسئلہ باہر کا نہیں ہمارے اپنے اندر کا ہے۔ اگر ہم اپنے آپ سے لڑ کر کچھ معاملات میں ایک اصولی موقف اختیار کر لیں تو ہم بہت آسانی کے ساتھ ایک اچھی دین دارانہ زندگی گزار سکتے ہیں اور للہ کا دین دوروں تک پہنچاسکتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے آپ سے نہیں لڑے تو پھر آج بھی جنت کی منزل اتنی ہی دور رہے گی جتنی وہ پہلے کبھی رہی تھی۔ اپنی ذات کے حوالے سے یہ دو بنیادی مسائل ہیں جن سے ہم کو خود لڑنا ہوگا۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

خواہشات سے اوپر اٹھنا

دور جدید کی آسانیوں نے ایک مسئلہ پیدا کر دیا ہے کہ آخرت کی جس کامیابی کی طرف مذہب بلاتا ہے، ان آسانیوں نے اس کامیابی کو نظر سے اوجھل کر کے دنیا کی کامیابی ہی کو ہمارا مقصد زندگی بنادیا ہے۔ آج زندگی بہت خوبصورت ہو چکی ہے۔ دنیا کی رونقیں بہت بڑھ چکی ہیں ۔ ایک زمانے میں جو نعمتیں بادشاہوں کو حاصل نہ تھیں وہ عام لوگوں کی دسترس میں آچکی ہیں۔ خوبصورت گھر، بیش فرنیچر، شاندار گاڑی ، کیرئیر، بینک بیلنس، فارن ٹورز غرغ ان تمام چیزوں نے انسانوں کی نظروں کو چکاچوند کر رکھا ہے۔ ہر شخص انھی کے پیچھےبھاگے چلا جا رہا ہے مگر ان چیزوں کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ وہ قیمت خود انسان کا اپنا وجود ہے۔ اس کا وقت ہے۔ اس کی توانائیاں ہیں اور سب سے بڑھ کر اس کی توجہ اور یکسوئی ہے۔

ایک شخص ان چیزوں سے بچنا بھی چاہے تو معاشرے میں لگی دوڑ اسے مجبور کر دیتی ہے۔ ہر طرف لوگ”الھکم التکاثر “ کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ہر طرف بہتات اور دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ ہے۔ یوں آدمی سماجی دباؤ میں آکر اس دوڑ کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ نہ بنے تو اس کے گھر والے اسے گھسیٹ کر لے جاتے ہیں۔

گویا آج خواہشات کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ دوسرے سے آگے بڑھنے کی ایک ریس ہے جس میں ہر شخص شریک ہے۔ معیار زندگی کو بلند کرنے کا ایک ذوق ہے جس کی کوئی آخری خد ہی نہیں آتی۔ خواہشات کی یہ دوڑ اگر جاری رہے گی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پھر انسان آخرت کی کامیابی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔

اس صورتحال کا علاج یہ ہے کہ انسان ایک اصول اور مضبوط فیصلہ کر لے۔وہ ایک خاص سطح پر اپنے معیار زندگی کو منجمد کر لے۔ یہ طے کر لے کہ اسے آخرت کا معیار زندگی بلند کرنا ہے۔ اور دنیا میں بس ضروریات کی سطح پر رہنا ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ اپنا فضل کردیں تو وہ یقیناً بہت اچھی زندگی گزارے اور دوسروں کو بھی دے۔ مگر اسے مقصد بنا کر معیار زندگی کو بلند کرنے کی دوڑ میں لگے رہنا ہلاکت کے مترادف ہے۔ اصل چیز آخرت کی سربلندی کو زندگی کا مقصد بنالینا ہے۔ یہی کامیابی  کا راستہ ہے۔

تعصبات  سے بلند ہونا

دور جدید میں ایک دوسری لڑائی یہ لڑنا ہوگی کہ مذہب کے تام پر رائج فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کرنا ہوگا۔ ہمارے ہاں ہر شخص کسی نہ کسی فرقے سے متعلق پیدا ہوتا ہے۔ اس کا گھرانہ عام طور پر کسی مخصوص فرقے سے وابست ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں انسانوں کے تعصبات وجود میں آجاتے ہیں۔

یہ نہ بھی ہو تو ہوش سنبھالنے پر انسان کسی نہ کسی فکر سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ وہ کسی نقطہ نظر کو اختیار کرلیتا ہے۔ اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ وجود میں آجاتا ہے۔ ان سب چیزوں سے بھی انسانوں کے تعصبات جنم لیتے ہیں۔ ان تعصبات کے بعد انسان اکثر اس قابل نہیں رہتا کہ حق اور سچائی کو اختیار کر سکے۔ وہ اپنے خاص نظریے، زاویے اور اپنی عینک سے دنیا کو دیکھتا ہے۔

ایسے میں بار ہا سچائی خود چل کر اس کے پاس آتی ہے، مگر وہ اسے ٹھکرادیتا ہے۔ وہ حق کو صرف اس وجہ سے رد کر دیتا ہے کہ وہ اس کے لیے نئی یا مختلف بات ہوتی ہے۔ و ہ اس کے پیدائشی تصورات یا ابتدائی خیالات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ بھی اپنے پیروں پر آپ کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کا راستہ یہ ہے کہ انسان یہ جان لے جہ جس طرح وہ عمل کے امتحان میں اسی ظرح وہ فکر کے امتحان میں بھی ہے۔ جس طرح ایک یہودی اور عیسائی کے لیے آزمائش یہ ہے کہ اس اسلام کی سچائی اس کے پاس آئے تو وہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے، ٹھیک اسی طرح ایک مسلمان کا امتحان یہ ہے کہ اپنے فرقے اور تعصب سے اوپر اٹھ کر حقیقت کو دریافت کرے۔ اس امتحان سے گزرے بغیر آخرت کی نجات ممکن نہیں۔

اس سلسلے میں جو آج جو سب سے بڑی آسانی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے وہ بنیادی شرائط ہمارے سامنے رکھ دی ہیں جو ان کے نزدیک کامیابی  کا معیار ہیں وہی حق ہے، وہی آخری سچائی ہے۔ وہی اخروی کامیابی کا معیار ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خود اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے۔

ہم نے اپنے کتاب”قرآن کا مطلوب انسان“ میں یہ معیرات خود کلام الہٰی کی آیات کی شکل میں بیان کر دیے ہیں اب گویا اس اصل معیار کو جاننے کے لیے پورا قرآن پڑھنے کی ضرورت بھی رہی۔ چند مقامات کا مطالعہ ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ نجات کس بنیاد پرملتی ہے اور اصل حق اللہ کے نزدیک کیا ہے۔

اس کے علاوہ بھی قرآن مجید کا ہر لفظ ہدایت ہے۔ خود رسول ﷺ کی سیرت طیبہ وہ مینارونور ہے جو چودہ سو برس سے ہماری رہنمائی کر رہا ہے اور تا قیامت کرتا رہے گا۔

ہم خوش قسمت ہیں

ہماری خوش قسمتی یہیں تک محدود نہیں کہ آج نجات کا راستہ ہمیشہ سے بڑھ کر آسان ہو چکا ہے۔ اسلام قبول کرنے اور اسلام کی تعلیم کو اختیار کرنے کے نتیجے میں ہمیں کسی سختی، مشقت قور اذیت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ریاست ہمارے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔ حتی     ٰکہ غیر مسلم ممالک میں اپنے بنیادی اسلامی شعائر کو علانیہ ادا کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

اس سے بڑھ کر ایک عظیم موقع ہم کو مل چکا ہے جس کی طرف اوپر سرسری اشارہ ہم نے کیا تھا۔ وہ یہ کہ شہادت حق کا وہ کام جس کا اجر انتہائی غیر معمولی ہے اور اسلام کی دعوت دوسروں تک پہنچانے کا وہ راستہ جس پر چلنا ہمیشہ کانٹوں پر چلنے کے مترادف رہا ہے، آج بہت آسان ہو چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے انفارمیشن ایج کے ذرائع کو استعمال کر کے اور آزادی پر مبنی سماج کو استعمال کر کے پر امن طور پر پوری دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔

اس کا م کا اجر اتنا غیر معمولی ہے کہ انسان بہت معمولی سی اضافی محنت کے ساتھ وہ درجات حاصل ہوتے ہیں۔ گویا اس اعتبار سے ہم انتہائی خوش نصیب ہیں کہ بہت تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ سب کچھ مل سکتا ہے جو ہزاربادشاہتوں سے بڑھ کر ہے۔ نہ ماریں کھانا پڑیں گی۔ نہ جیل جانا ہو گا۔ نہ آگ میں اٹھا کر پھینکا جائے گا۔ نہ سولی پر لٹکا یا جائے گا۔

بس اصل سچ کو پورے اخلاص اور ہر طرح کے تعصب سے بلند ہو کر تلاش کرنا ہے اور پھر اسی کو پھیلانے کی کوشش کرنی ہے۔ ہی ہلکی سی آزمائش ہے۔ مگر اس کا اجر وہ جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ سچی بات یہ ہے کہ اس پہلو سے ہم انسانی تاریخ کے بہترین دور میں پیدا ہوئے ہیں اور بلاشبہ ہم سے زیادہ خوش نصیب دنیا میں کبھی کوئی نہیں گزرا۔ کاش ہمیں اس عظیم موقع کا احساس ہو جائے۔ جہاں رہیے بندگان خدا کے لیے رحمت بن کر رہیں، باعث رحمت نہ بنیے۔

 ابو یحییٰ