ناکامی کوکامیابی میں بدلنےکاآزمودہ طریقہ

کامیاب لوگ پیدا نہیں  ہوتے بنائے جاتے ہیں۔ ان میں اور ناکام لوگوں میں فرق صرف ناکامیوں پر ردعمل ظاہر کرنے کا ہے ۔ سڑک پر کسی رکاوٹ کا ہونا ، سڑک کے اختتام  کی دلیل نہیں ہے۔ یہ تو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نے متبادل راستہ اختیار کرنا ہے۔ تاہم میں نے لوگوں کو راستے بدلتے یا پھر صرف ایک رکاوٹ کی وجہ سے کبھی گرتے اور بکھرتے بھی دیکھا ہے۔ صرف ایک ناکامی پر ان کی پوری زندگی تہس نہس ہو جاتی ہے۔

یاد رکھیں یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے کہ ہمیں وہ چیزیں سکھانے گا جو ہم عام طور پر نہیں سیکھتے وہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے تجربات پر غور کریں اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔ اگر ہم اپنی ناکامیوں سے سیکھیں گے تو ایک گیند کی طرح ہم بلندی کی طرف اتنا ہی اونچا جائیں گے جیسے گیند کو آپ جتنی زور سے زمین پر ماریں وہ اتنا ہی اونچا جائے گا۔ جیتنے والے ہارنے والوں میں سے ہی نکلتے ہیں۔ بغیر تکلیف اٹھائے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اب اس بات کا فیصلہ کہ آپ زندگی میں کہاں تک جاتے ہیں اس سے ہو جاتا ہے کہ جو کچھ آپ نے اس کے ساتھ کیا۔

ایک 46 سالہ شخص موٹر سائیکل کے حادثے میں جل گیا۔ اس کے چار سال بعد ایک ہوائی حادثے میں اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا۔ آپ کے خیال میں ان دو المناک حادثوں کے بعد جنہوں نے اسے ناکارہ کر دیا تھا اسے کیا کرنا چاہیے تھا؟ وہ ایک نہایت کامیاب مقرر، ایک اچھا خاوند اور کامیاب بزنس مین بنا۔

کیا آپ اپنے آپ کو تصور میں لا سکتے ہیں کہ آدھا دھڑ، مفلوج ہونے اور ایک چمچہ اٹھانے ، ٹیلی فون ملانے یا غسل خانے میں جانے کے لیے بھی آپ دوسروں کے محتاج ہوں اور پھر بھی آپ وائٹ واٹر رافٹنگ کرتے ہوئے ہوا میں غوطہ لگاتے اور سیاسی مہم چلاتے ہوں۔

تاہم ڈبلیو مچل نے دوسروں کی مدد لینے سے انکار کر دیا۔مچل نے دن رات اپنی زندگی کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وہ ریاست کولوریڈو کے ایک چھوٹے سے شہر کا مئیر منتخب ہوا۔ اس کے بعد اس نے اپنی خراب وضع(اس کا جسم ٪65جلا ہوا تھا) کو اپنے لیے بیحد قیمتی سرمایہ بنایا اور کانگرس کا الیکشن لڑا۔ اپنی ابتدائی ظاہری حالت اور جسمانی چلینجز کے باوجود مچل نے وائٹ واٹر رافٹنگ شروع کی۔ اسے ایک خاتون سے محبت ہو گئی۔ اور اس سے شادی کر لی۔ اس نے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ایم اے کی ڈگری لی۔ اپنی فلائنگ کو جاری رکھا اور عوامی مقرر بنا۔ اس کا کہنا ہے کہ مفلوج ہونے سے پہلے 10000 کام کر سکتا تھا اور اب میں 9000 کر سکتا ہوں۔ اب یا تو مجھے 1000 کاموں کو نہ کرنے پر افسوس کرتے رہنا چاہیے تھا یا پھر 9000 پر توجہ دینی چاہیے اور ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس نے کسی کام کو چھوڑنے کا سوچا ہو۔ اب وہ تمام دنیا میں لوگوں کو امید کا پیغام دینے میں اپنا وقت صرف کرتا ہے۔ اگر آپ بہت احتیاط سے کھیلنا چاہتے ہیں تو آپ آگے بڑھنے کے بہت سے مواقع کھو دیں گے۔

"کیا تم یہ گمان کیے ہوئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاو گے، حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلوں پر آئے تھے۔ انہیں بیماریاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے  کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے”

ناکامی حتمی نہیں ہوتی ۔ کوئی بھی راتوں رات دنیا بھر میں کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ کوئی بھی ناکامیاں دیکھے بغیر اولمپک چیمیئن نہیں بن سکتا۔ جہاں آپ نے کوشش ترک کی وہیں آپ ناکام ہوگئے۔۔ آنے والے کل میں آپ زیادہ بہتر طریقے سے حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دوسروں کو اپنی تقدیر اور قسمت منتخب کرنے کا موقع مت دیجیے۔ صبر اور استقامت سے کام لے کر آپ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔

"جتنی سخت آزمائش اور مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا اس کا صلہ ہوتا ہے اور خدا جب کسی گروہ سے محبت کرتا ہے تو ان کو (مزید نکھارنے اور کندن بنانے  کے لیے ) آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے پس جو لوگ خدا کی رضا پر راضی رہیں خدا بھی ان سے راضی ہوتا ہے اور جو آزمائش میں خدا سے ناراض ہوں خدا بھی ان سے ناراض ہو جاتا ہےـ(ترمذی)

 

1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x