ہنر آپکی جان بھی بچاسکتا ہے!

بچپن میں ابو نے ایک کہانی سنائی تھی۔ ایک بادشاہ کا بیٹا بڑا ہونہار تھا۔ اس کے اساتذہ شہزادے سے بہت خوش تھے۔
شاہی رواج کے مطابق ایک مخصوص دن شہزادے کو عوام کے سامنے اپنی بہادری جرات اورمہارت کے نمونے دکھانے تھے تاکہ ہونے والے بادشاہ پر لوگوں کا اعتماد بڑھے۔ مقررہ تاریخ کو بھرے میدان میں شہزادے نے تلوار بازی، گھڑ سواری ، نشانہ بازی ، تیر اندازی ، خطاطی اور دیگر مروج علوم اور مہارتوں کا عوام میں مظاہرہ کیا۔

بادشاہ بہت خوش تھا کہ اس کا بیٹا ہر طرح فنون کا ماہر ہے۔ اس نے اپنے بوڑھے چچا سے پوچھا جو ساتھ ہی ایک بڑی سنہری کرسی پر براجمان تھے،” چاچا سئیں آپ خوش ہیں ؟ کوئی تربیت میں کمی لگ رہی ہو کوئی مشورہ دینا چاہئیں تو حکم کریں۔ “ چاچا سائیں سیانے آدمی تھے بولے ”جیتا رہے شہزادہ ، ابھی جوان ہے، تجربہ کاری سے زندگی کے باقی رموز بھی سیکھ لے گا ،میرا مشورہ ہو سکتا ہے آپ کواور شہزادے کو پسند نہ آے لیکن میں امانت سمجھ کر دے رہا ہوں۔ شہزادے کو کوئی بھی ہاتھ سے کرنے والا ہنر سکھا دیں۔ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، کوئی ہاتھ کا ہنر ضرور آتا ہو۔“ شہزادہ بختاں والا تھا۔ دادا کے ہاتھ چوم کر بولا، آپ کا مشورہ میرے لیے حکم ہے۔ میں ضرور سیکھوں گا۔ “

ماہرین کی ایک کمیٹی بیٹھی ، انہوں نے مشاورت کے بعد طے کیا کہ شہزادہ قالین بنانا سیکھے گا۔نوجوان شہزادہ بھی پورے ذوق و شوق سے قالین بنانا ،اس پرپھول بوٹے بنانا سیکھنے لگا۔ سال چھ ماہ میں وہ ایک بہترین قالین بنانے والا بن چکا تھا۔

کئی ماہ و سال گزرے۔ شہزادے نے کئی معرکے سر کر لیے۔ شہزادے کی نیک شہرت ہر خاص و عام کے دل میں گھر کر گئی تھی۔ اچانک ایک معرکے کے بعد پوری سلطنت کو ایک افسوس ناک خبر سننے کو ملی۔ شہزادے کو اس فوجی مہم میں شکست ہوگئی ،اسے قیدی بنا لیا گیا تھا۔
بادشاہ اور ملکہ کے ساتھ ان کے عوام بھی غم سے نڈھال تھے۔ شہزادے کی زندگی کے بارے میں بھی افواہیں تھیں۔ بادشاہ جواب ریٹائرمنٹ کا سوچ رہا تھا پھر سے دربار کے کام سنبھال کے بیٹھ گیا۔ دکھ کی وجہ سے بیمار بھی رہنے لگا۔ شہزادے کا کچھ اتا پتا نہیں چلا، اسے کسی خفیہ جگہ پر قید کیا گیا تھا، سلطنت کے جاسوس اپنے محبوب شہزادے کی بو سونگھتے پھر رہے تھے، مگر کامیابی نہیں مل رہی تھی۔

ادھر سال گزرا یا چھ ماہ، قید میں پڑا شہزادہ اکتا کر جیل کے داروغے سے بولا مجھے قالین بنانا آتے ہیں۔ سامان لا دو تو میں قالین بنایا کروں گا اور تم بیچ کر پیسے کمانا۔میرا وقت اچھا گزر جائے گا اور تمہیں سونے کے سکے ملیں گے۔
یوں جیل میں شہزادہ قالین بنتا اور داروغہ اسے بیچ آتا۔ شہزادے کو ایک دن سوجھا کہ وہ قالین کے پھول پتیوں کے ڈیزائن میں اپنے قیدخانے تک پہنچنے کا نقشہ بنا دے۔ ساتھ ہی اپنا مخصوص شاہی نشان بھی تاکہ اگر خوش قسمتی سے کوئی قالین اس کے ملک تک پہنچا تو ہو سکتا ہے کوئی اس کا مخصوص نشان یا لوگو پہچان کر اسے یہاں سے نکالنے آ پہنچے۔ یوں وہ ہر قالین کے ڈیزائن میں نقشہ بناتا اور اپنا مخصوص لوگو بھی۔

جانے کتنا وقت لگا لیکن قالین جب اس کے ملک پہنچے، دیکھتے ہی لوگوں نے پہچان لیے اور بادشاہ کے حضور پیش کیے۔ قالین خوش خبری بن گئے کہ شہزادہ زندہ ہے۔ بادشاہ کے انٹیلی جنس ماہرین نے نقشہ بھی سمجھ لیا ۔ پھر ایک سرجیکل سٹرائک سے شہزادے کو بچا لیا گیا۔

یہ تو تھی کہانی۔اب ہمارا قصہ بھی سنیںجو ۔
میں جو کبھی سیاستدان بننے کا سوچتی تھی اور کبھی سول سروس میں جانا چاہتی تھی۔ ریسرچ کے حوالے سے بہت کچھ سوچ رکھا تھا، ایم اے پولیٹیکل سائنس اور ایم فل میں ایتھنک موومنٹس ان پاکستان(Ethnic Movements in Pakistan) پر ریسرچ پیپرز لکھے تھے۔پی ایچ ڈی کا بھی سوچا ،مگر پھر جرنلزم اور براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں چلی گئی۔ ٹی وی پروڈکشن کی، ریڈیو پر پروگرام ، FMپریزینٹر رہی۔ کچھ لکھنا لکھانا بھی چلتا رہا۔ ایک غیر ملکی یونیورسٹی کے لئے سرائیکی لینگویج کورسز میں بھی کنسلٹنسی کی۔ ان سب چیزوں کے درمیان امی جی كو دیکھتے دیکھتے ہاتھ کا کام ، کشیدہ کاری وغیرہ بھی سیکھ گئی۔

کئی سال ڈٹ کر ورکنگ ویمن رہی، اپنی پسند سے، اپنی مرضی کے سب کام کئے۔ پھر خود اپنی مرضی ، خوشی سے چھوڑ چھاڑ کر گھر بیٹھ گئی۔ اب پچھلے کئی برسوں سے گھر کی راجدھانی میں راج چل رہا ہے، بچوں کی تعلیم، تربیت ، ان کے لئے کہانیاں دیگر مصروفیات وغیرہ وغیرہ۔
ہاتھ کا کام اس لئے یاد آیا کہ پچھلے تین دن سے گھر کے کام سے جزوی چھٹی منا رہی ہوں۔ خان صاحب کے ساتھ رہتے ہوئے بیمار ہونے کا مزہ ہی اور ہے ،خوب عیش کروا رہے ہیں۔ لیکن قسم سے پھر بھی پریشانی ہے کہ دن ہی ایسے ہیں، ساری دنیا پریشان ہے۔ مجھے سکون یہ ہلکی پھلکی کڑھائی کرنے میں مل رہا ہے۔ creative ہونا ہر طرح سے” چس“ دیتا ہے۔ یہ بھی شائد ویسا ہی سکون ہے ویسی ہی چس ہے۔
شہزادے کا ہنر اس کی قید ختم کرنے کا باعث بنا، ہمارا ہنرفراغت کے، بوریت کے ان لمحوں کو خوشگوار اور بامعنی بنا رہا ہے۔

سعدیہ مسعود

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x