ہمارا تعارف

 

ہمارا مقصد معاشرے میں اپنی قوم میں ایمان و اخلاق کی اس دعوت کو عام کرنا ہے جو اسلام کا مقصود ہے، جس پر جنت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔ جو اس دنیا میں ہمیں ایک بار وقار قوم بنا سکتی ہے جو تمام انبیاء کی زندگی کا مشن تھا۔

اللہ رب العزت کا فرمان ہے:

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ آمَنُواْ مِنْكُمْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى ٱلأَرْضِ كَمَا ٱسْتَخْلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ ٱلَّذِى ٱرْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنم بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِى لاَ يُشْرِكُونَ بِى شَيْئاً وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَأُوْلَـٰئِكَ هُمُ ٱلْفَاسِقُونَ﴿٥٥﴾

ترجمہ:

جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور خلافت دے گا، جیسےاس نے  ان سے پہلے لوگوں کو خلافت دی تھی، اور ان کے لیے ضرور ان کا وہ دین محکم و پائیدار کر دے گا جو اس نے ان کے لیے چنا، اور یقیناً ان کی حالت ِ خوف کو بدل کر وہ ضرور انھیں امن دے گا، وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور جو کوئی اس کے بعد کفر کرے تو وہی لوگ فاسق ہیں ۔ (سورۃ النور آیت نمبر55)

ہمیں صرف اپنے حصے کا کام ہمیں کرنا ہے اور خدا اپنے حصے کا اپنے حصے کا کام کرنا بخوبی جانتا ہے اور یہ تاریخ میں بار ہا ثابت ہوتا رہا ہے۔ یہی خدا کا قانون ہے کہ جس کے تحت بنی اسرائیل یعنی یہود عروج و زوال کا شکا ر ہوتے رہے اور 1400 سال سے وہی قانون مسلمانوں پر بھی نافذ ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:۔

سُبْحَانَ ٱلَّذِى أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ إِلَىٰ ٱلْمَسْجِدِ ٱلأَقْصَى ٱلَّذِى بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَآ إِنَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلبَصِيرُ﴿١﴾وَآتَيْنَآ مُوسَى ٱلْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِى إِسْرَائِيلَ أَلاَّ تَتَّخِذُواْ مِن دُونِى وَكِيلاً﴿٢﴾ ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْداً شَكُوراً﴿٣﴾ وَقَضَيْنَآ إِلَىٰ بَنِى إِسْرَائِيلَ فِى ٱلْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِى ٱلأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوّاً كَبِيراً﴿٤﴾ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ أُولاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَاداً لَّنَآ أُوْلِى بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُواْ خِلاَلَ ٱلدِّيَارِ وَكَانَ وَعْداً مَّفْعُولاً﴿٥﴾ ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ ٱلْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيراً﴿٦﴾إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلآخِرَةِ لِيَسُوءُواْ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُواْ ٱلْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِيراً﴿٧﴾ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيراً﴿٨﴾ إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْآنَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْراً كَبِيراً﴿٩﴾ وأَنَّ ٱلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِٱلآخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاباً أَلِيماً﴿١٠﴾

ترجمہ:

پاک ہےوہ (اللہ)جو اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس  کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے ، تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہی سننے والا، خوب دیکھنے والاہے(1)۔اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) دی اورہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا(اور انھیں حکم دیا) کے تم میرے سوا کسی کو کارساز  نہ ٹھہراؤ(2)۔ اے ان لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا، بے شک وہ شکر گزار بندہ تھا(3)اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں فیصلہ سنا دیا کہ تم زمین میں دوبار ضرور فساد کرو گے اور ضرور بہت بڑی سر کشی کرو گے(4)۔ پھر جب دونوںمیں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے سخت جنگجو بندے بھیج دیے، چنانچہ وہ (فساد انگیزی کے لیے) شہروں کے درمیان گھس (پھیل) گئے اور وعدہ (پورا) کیا ہوا تھا(5)۔ پھر ہم نے پھیر کر تمھیں ان پر غلبہ دیا اور تمھیں مال اور بیٹوں کے ساتھ مدد دی اور ہم نے تمھیں نفری میں خوب زیادہ کر دیا(6) ۔ اگر تم بھلائی کرو گے تو اپنے ہی نفس کے لیے کرو گے اور اگر برائی کرو گے تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہو گی پھر جب آخری بار کا وعدہ آیا(تو ایک اور قوم تم پر غالب آئی) تاکہ وہ تمھارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (اقصیٰ) میں داخل ہو جائیں جیسے پہلی بر اس میں داخل ہوئے تھے، اور تاکہ وہ جس پر غلبہ پائیں اسے یکسر تباہ کر دیں(7)۔ قریب ہے کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر دوبارہ (سرکشی) کروگے تو ہم بھی دوبارہ(وہی معاملہ) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا یا ہے(8)۔ بے شک یہ قرآن وہ راہ بتا تا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور مومنوں کو بشارت دیتا ہے جو نیک کام کرتے ہیں کہ یقیناًان کے لیے بہت بڑا اجر ہے(9)۔ اور یہ کہ بلاشبہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے ہم نے نہایت درد ناک عذاب تیار کیا ہے(10)۔(سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر 1 تا10، پہلا رکوع)

ہمارا مقصد اپنی قوم میں اسی قانون کا ابلاغ ہے۔یہ اللہ رب العزت کا قانون ہے کہ جب کبھی اللہ کی منتخب کردہ قوم ایمان اور اخلاق میں زوال کا شکار ہوتی ہے، دنیا تک دعوت کے کام کو پس پشت ڈالتی ہے اللہ تعالیٰ باقی اقوام کے ذریعے انہیں مغلوب کر کے سزا دیتا ہے اور جب وہ دوبارہ ایمان اور اخلاق کی طرف لوٹتی ہیں ، دعوت کو اپنا مشن بناتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش کر دیتا ہے۔ ہر شر سے انہیں نجات ادا کرتا ہے۔ بنی اسرائیل پر دو دفعہ عذاب الٰہی آیا ۔ پہلی مرتبہ یہ ذلت و تباہی کے مرتکب بابل کے فرماں روابخت نصر کے ہاتھوں    ہوئے جس نے  یہودیوں کو یروشلم میں بے دریغ قتل کیا اور ایک بڑی تعداد کو غلام بنا لیااور یہ اس وقت ہوا جب انھوں نے اللہ کے نبی شعیا علیہ السلام کو قتل یا ارمیاعلیہ السلام کو قید کیا اور تورات کے احکام کی خلاف ورزی ۔ اس طرح وہ معاصی کا ارتکاب کر کے زمین میں فساد کے مجرم بنے(مسیح عیسیٰ  علیہ السلام سے تقریباً چھ سو سال قبل)۔

دوسری مرتبہ یہودیوں پر اس وقت اللہ کا عذاب آیا نے جب انہوں نے فساد برپا کیا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کو قتل کر دیا اورپھر حضرت  عیسیٰ علیہ السلام کو بھی قتل کرنے کے درپے تھے مگر اللہ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا کر یہودیوں سے بچالیا۔ اس کے نتیجے میں پھر رومی بادشاہ ٹیٹس کو اللہ نے ان پر مسلط کر دیا، اس نے یروشلم پر حملہ کر کے ان کے لیے خوب تباہی مچائی اور بہت سوں کو قیدی بنا لیا۔ ان کے اموال کو لوٹا گیا ، مذہبی صحیفوں کو پاؤں تلے روندا اور بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو تاراج کیا او ر انھیں ہمیشہ کے لیے بیت المقدس سے جلا وطن کر دیا ۔ اس طرح خوب ان کی ذلت و رسوائی کا سامان کیا۔ یہ تباہی سن 70 عیسوی میں ان پر آئی۔

ان واقعات کی روشنی میں اللہ تعالیٰ ہمیں خبردار کر رہا ہے تاکہ ہم مسلمان آج مغرب اور کفار کے ہاتھوں جس طرح ذلت و رسوائی کا شکار ہیں ، اس سے نجات حاصل کر سکیں۔لہٰذا جس تیزی سے مسلمان اس دعوت کومسلمان اپنی زندگیوں میں نافذ کرتے رہے اسی تیزی سے مسلمانوں پر آتی رات کے اندھیرے ختم ہوں گے اورانشاءاللہ  اک روشن صبح نمودار ہوگی۔

تبشیر کے ذریعے ہم پہلے اس پیغام کو آپ تک پہنچائیں گے،ساتھ ہی آپکے سوالات کے مدلل جوابات دیئے جائنگے۔ آپ کبھی بھی کسی بھی موضوع پر کوئی بھی سوال کر سکتے ہیں۔ اور جنتا جلدی ممکن ہو آپ تک جواب پہنچا دیا جائے گا۔اگلے مرحلے میں سائنٹفک بنیادوں پر اس دعوت کو کیسے عملی طور پر اپنی زندگیوں میں اپنایا جائے،پر  آپ کو کورس کروایا جائے گا۔ یہ کورس ”قرآن کا مطلوب انسان” کے نام سے ہوگا۔ جس میں ہمیں خود کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھنے ، خود کو جنت کیلئے تیار کرنے اور اس دنیا کیلئے ایک بہتر انسان بننے میں مدد دے گا۔ اس کورس کی بنیادی خصوصیت روایتی وعظ و نصیحت سے ہٹ کر سائنسی بینادوں پر بہترین انسانوں کی تیاری ہے۔تبشیر کے ذریعے ہم اسی پیغام کو پھیلانا چاہتے ہیں۔

ساتھ ساتھ وہ حکمت بھی ہماری ویب سائٹ پر وقتاً فوقتا ً شائع ہوتی رہے گی جسےجدید علوم میں self help کے نام سے جاناجاتا ہے۔ جو اس دنیا میں انشاءاللہ آپ کیلئے مددگار و معاون ثابت ہوگی۔

اللہ تعالیٰ آپ کیلئے آسانیاں پیدا کریں اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کریں۔

 

واخرالدعوانا عن الحمداللہ رب العالمین۔

نوید طارق