مذہب کی سائنس

موجودہ زمانہ، مذہب کی سائنس میں آگ کی دریافت کا زمانہ ہے۔ پین سرمیا کے مطابق زمین کے بعض خطّوں سے صرف تیس کلومیٹر کی دوری پر خلا یعنی سپیس ہے۔ اس لیے قرین ِ قیاس ہے کہ زندگی کے ابتدائی جرثومے خلا یا آسمان سے زمین پر وارد ہوئے ہوں۔ اس نظریہ کے نزدیک زندگی سیارہ در سیارہ بارش کی طرح برستی رہتی ہے۔ جب کوئی بڑا شہابیہ کسی ایسے سیارے پر گرتا ہے جہاں زندگی کے جرثومے پہلے سے موجود ہوں تو وہاں سے اُٹھنے والی دھول، مٹی، گرد اور پتھر وغیرہ واپس خلا میں نکل جاتے ہیں اور اپنے ساتھ زندگی کے اجزأ بھی لے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ زمین پر ایک بڑا شہابیہ گرا اور پھر جب اس کا امپیکٹ زمین کے ساتھ ہوا تو زمین سے کئی ٹکڑے اُڑ کر خلا میں چلے گئے اور اپنے ساتھ زندگی کے ہزاروں جرثومے بھی لے گئے۔ یہ پتھر اور ٹکڑے وقت کے ساتھ خلاؤں میں تیرتے رہے اور پھر کبھی نہ کبھی کسی اور سیارے پر گر گئے یا اس سے ٹکرا گئے تو وہاں زندگی کا عمل شروع ہوجاتاہے۔

پین کا مطلب ہوتا ہے ’’آل‘‘ یعنی تمام اور سپرم کا معنی تو ہر کسی کو معلوم ہے۔ پین سپرمیا کے مطابق زندگی کائنات میں ہر جگہ موجود ہے۔ جہاں اسے حالات مساعد نظر آتے ہیں وہاں ارتقأ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر پین سپرمیا درست ہے جو کہ معلوم ہوتا ہے کہ درست ہے تو پھر زندگی کو اس پوری کائنات میں پھیلا دینے والی قوت یقیناً نیچر ہوگی۔ اگر زندگی کو پوری کائنات میں نیچر نے خود پھیلا دیا ہے اور ایک نہ ایک دن ہماری ملاقات ایلیئنز سے بھی ہوجانے کی قوی اُمید ہے تو پھر یہ کیونکر کہا جاسکتاہے کہ ہم واحد ایسی مخلوق ہوں گے جو ذہین فطین ہے۔

بقول ڈی گراس ٹائسن،
’’ہم چمپیانزی سے صرف ایک فیصد مختلف ہیں اور ہمارا اور ان کا فرق اتنا ہے جتنا کہ ایک گھٹنوں کے بل چلتے بچے کا اور ایک سیانے انسان کا۔ فرض کریں کسی اور سیارے پر ایک مخلوق ہے جو ہم سے صرف ایک فیصد ہی زیادہ آگے ہوئی تو ہمارے بڑے بڑے سائنسدان ان کے سامنے ایسے ہوں گے جیسے ہمارے سامنے چمپانزیز ہیں‘‘۔

اگر زندگی اِس طرح وسیع و عریض اور عظیم و بسیط ہے تو کیا اِس بات کے امکانات موجود نہیں ہیں کہ کوئی مخلوقات ہم سے کئی کئی فیصد آگے ہوں۔ فرض کریں لاکھوں نوری سال کی دُوری پر ایک کہکشاں ہے اور اس کے کسی سیّارے پر زندگی موجود ہے۔ فرض کریں وہ لوگ ہم سے بہت پہلے پیدا ہوئے اور ہم سے بہت پہلے نہ صرف تہذیب و تمدن تک پہنچے بلکہ سائنسی ترقی میں بھی ہم سے بہت آگے ہیں۔ فرض کریں کہ وہ ہم سے ایک لاکھ سال آگے ہیں۔ ہم اپنی موجودہ سائنسی ترقی کو دیکھ کر بڑی آسانی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آنے والے کل میں عین ممکن ہے کہ ہم خود کو ڈی میٹریلائز کرکے دوبارہ میٹریلائز کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیں۔ بقول برائن گرین ’’ٹیلی پورٹیشن ہم سے چند سال کی دُوری پر کھڑی ہے‘‘۔ بقول برائن گرین، ’’اگر ہم نے ٹیلی پورٹیشن سیکھ لی تو ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں تک ہم ایک سیکنڈ میں پہنچ جایا کریں گے اور سفر کوئی معنی نہیں رکھے گا‘‘۔ بقول برائن گرین، ’’تب ہم گریوٹی فون استعمال کریں گے اور دوسرے جہانوں کے لوگوں سے بھی رابطے قائم کرسکیں گے‘‘۔

اگر کسی اور سیّارے پر بہت زیادہ ترقی یافتہ باشعور مخلوق موجود ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ خود کو ٹیلی پورٹ بھی کرسکتی ہو۔ عین ممکن ہے کہ وہ کسی ویران سیّارے کو آباد کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکی ہو۔ عین ممکن ہے کہ وہ کسی سیّارے پر خود بیج پھینکتی ہو تاکہ وہاں زندگی کی فصل اُگ سکے۔ عین ممکن ہے کہ وہ کسی سیّارے پر بیج پھینکنے کے بعد اس کے سیارے پر زندگی کی فصل کے کامیابی سے اُگنے کے بعد وہاں کی باشعور مخلوق کو خود رہنمائی دیتی ہو۔

میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ موجودہ سائنس یونانی اور ہندوستانی دیوتاؤں کو ثابت کرنے کے لیے بڑے زبردست دلائل پیش کرنے کی اہل ہے۔ تب میں یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ اِس مقام تک پہنچنا یعنی دیوتاؤں کو کامیابی سے ثابت کرنے کے مقام تک پہنچنا ’’مذہب کی سائنس‘‘ دریافت کرنے میں ایسا ہے جیسے انسان نے آگ دریافت کر لی تھی۔ یعنی مذہب کی سائنس کا ارتقا جاری ہے اور ابھی اپنے اُن مراحل میں ہے جب دورانِ ارتقائے حیات، آگ دریافت ہوئی تھی۔ فلہذا مذہب کی سائنس اب ارتقأ کرتے ہوئے سامی مذاہب کے خدائے واحد تک بھی پہنچے گی۔

یہ مفروضہ کہ مذہب کی سائنس میں ارتقأ بالآخر خدائے واحد تک پہنچےگا، بہت سے سائنسی شواہد سے ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً لاتسبوالدھر والی حدیث میں آیا ہے کہ ’’خدا خود زمانہ ہے‘‘۔ اب ذرا غور کیجے! زمانہ کیا ہے؟ یہ وہ عجیب و غریب مظہر ہے جس کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔ جو سپیس کی ہر ڈائمینشن میں موجود رہتا ہے۔ تھوڑی سی توجہ درکار ہے!

سپیس کی پہلی ڈائمینشن تصور کریں۔ یہ ایک لائن ہوتی ہے۔ فقط ایک لائن۔ ایک لائن بہت سے نقاط سے مل کر بنتی ہے۔ لائن کی دو سمتیں ہوتی ہیں۔ کسی بھی نقطے کی حرکت لائن کی کسی بھی سمت میں، وقت کے اندر ہی ممکن ہوتی ہے۔ ثابت ہوا کہ زمانہ پہلی ڈائمینشن میں موجود ہے۔اب ٹوڈائمینشنل اینٹٹی تک آجائیں! فرض کریں ایک مستطیل ہے، مربع ہے، دائرہ ہے یا کچھ بھی ہے جو ٹوڈائمنشنل ہے، اس میں نقطے کی حرکت سپیس کی دو ڈائمینشنز میں جاری رہتی ہے اور یہ حرکت ٹائم کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ہوگئی ٹوڈائمینشل ورلڈ میں زمانے کی موجودگی۔ اب تین ڈائمینشنز کے جہان میں آجائیں! تین ڈائمینشنز کا جہان، یہ جہان ہے۔ جس میں ہم رہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری دنیا میں زمانہ ہی ہر حرکت کی پہچان ہے۔ اور یوں زمانے کی موجودگی سپیس کی تین ڈائمینشنز میں بھی ویسی کی ویسی موجود رہی۔ جب تک سٹرنگ تھیوری نہیں آئی تھی بلکہ جب تک تمام سٹرنگ تھیوریز پیش کرنے والے سائنسدانوں کا اجلاس نہیں ہوا تھا یعنی کہ 1997 میں، تب تک زمانے کو مکان کی ہی چوتھی ڈائمینشن کہا جاتا تھا۔ لیکن 1997ء میں ریاضیاتی طور پر معلوم ہوا کہ سپیس کی تو ابھی اور بھی ڈائمینشنز ہیں اور طے ہوا کہ ’’دس ڈائمینشنز ہیں‘‘۔ تب زمانے کو گیارھویں ڈائمینشن کہا گیا۔

آپ نے غور کیا؟ پہلی ڈائمینشن سے زمانے کی موجودگی ہر ڈائمینشن کی مخلوقات اور آبجیکٹس کے لیے جس طرح شروع ہوئی، آخری معلوم ڈائمینشن تک ویسی ہی چلی آئی۔ زمانہ سپیس میں ہرجگہ موجود ہے اور سپیس جہاں جہاں ڈینس ہوجاتی ہے، یعنی جب روشنی کی رفتار سے چلنے والے ذرات ہگز بازانز سے نہیں گزر سکتے اور مادہ بن جاتے ہیں، یا کوانٹم فلیکچوئشن ہوجاتی ہے تو وہاں مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بایں ہمہ مادہ سپیس کا ہی حصہ رہتا ہے۔ جی ویوز نے ثابت کیا کہ مادہ سپیس کا ایسے ہی حصہ ہے جیسے پانی کا پانی حصہ ہے۔ چنانچہ زمانے کی موجودگی مادی سپیس یا غیر مادی سپیس میں ہر سطح کی گرِڈ میں ایک جیسی ہے۔ ہماری گرِڈ Grid جو تین ڈائمینشنل ہے بہت بڑی گرِڈ ہے۔ اس گرِڈ کے کسی ایک خانے میں اور زیادہ باریک گراف ہے۔ وہ سپیس کا نچلا گراف ہے۔ ہم وہاں تک نہیں جاسکتے۔ لیکن اگر ہم کوانٹائزڈ ہوکر وہاں تک چلے جائیں تو ہمیں وہ گرڈ ایسے ہی محسوس ہوگی جیسے اب یہ تھری ڈی کی گرِڈ محسوس ہوتی ہے۔ یونہی گرِڈز کا سلسلہ نیچے سے نیچے اُترتاچلا جاتاہے، دس ڈائمینشنز تک۔

اس آخری حصے میں پیش کی گئی فزکس کی بحث سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ جب خدا نے خود کو ’’زمانہ‘‘ کہا تو ہم نے اسے اپنے جہان میں کیسے پایا؟ اور پھر جب ہمارے مفروضوں نے ہمیں اور جہانوں کی خبر دی تو ہم نے تب بھی زمانے کو ہر جگہ ویسے ہی موجود پایا جیسے وہ اکلوتی ڈائمنشن میں تھا۔

خدا نے اپنے آپ کو روشنی بھی کہا ہے۔ اور میرا نہیں خیال کہ ہم میں سے کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ روشنی ہر جگہ موجود ہے۔ روشنی شے نہیں۔ روشنی غیرشے ہے۔ روشنی ہر فریم میں یکساں رہتی ہے۔ رُکے ہوئے فریم سے بھی وہی رفتار۔ حرکت کرتے ہوئے فریم سے بھی وہی رفتار۔ روشنی کی رفتار کو کسی مادی آبجیکٹ کی رفتار میں جمع نہیں کیا جا سکتا۔ روشنی آزاد ہے۔ روشنی لچکدار ہے۔ روشنی تاریک خلاسے گزر رہی ہے۔روشنی کا بنیادی ذرّہ فوٹان بذاتِ خود زیرو ڈائمینشنل ہے۔ اُسے کسی سطح کے بغیر نہیں دیکھا جا سکتا۔ آپ خلا میں جھانکیں ، تاریکی ہی تاریکی ہے لیکن جونہی کوئی سطح اس کے سامنے لائیں، وہ سطح روشن ہوجاتی ہے۔ گویا روشنی کا ذرّہ تھری ڈی کے جہان میں مادے سے ٹکرائے بغیر نظر نہیں آتا۔ میں اس مقام پر کہا کرتا ہوں۔
’’نُور بلاشرکتِ مادہ ظلمتِ محض ہے‘‘

یہ بھی پڑھیں:   الحاد کا چیلنج اور ہماری ذمہ داری – ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

عین یہی خیال اسلام نے سب سے پہلے متعارف کروایا جب انسان کو اس مادی جہان کی طرف متوجہ کرتے ہوئے بار بار کہا کہ سائنس میں آگے بڑھو! کائنات میں غورکرو! ستاروں کو جانو! پہاڑوں کو کھودو! درختوں کو پرکھو! ایک ایک ذرّے کا مطالعہ کرو! تب تمہیں خدائے واحد دکھائے گا۔یعنی سائنس ہی نہیں مذہب کے نزدیک بھی نُور کی پہچان کے لیے ضروری ہے کہ آپ مادے کا مطالعہ کریں۔مہاتما بدھ کو بھی تو نروان اس وقت ملا جب اس کے بھکشوؤں نے اس کے منہ میں مادی غذا کا ایک دانہ ڈالا۔ غرض کم از کم اسلام نے مادی دنیا کی طرف انسان کو سب سے پہلے توجہ دلائی۔ میں نے کئی جگہ لکھا ہے کہ موجودہ عہد کی مادہ پرستی کا اگر کوئی حقیقی ذمہ دار ہے تو وہ خود اسلام ہے۔

قصہ مختصر! مذہب کی سائنس میں ابھی ارتقأ اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ پین سپرمیا کو چھوڑ دیں! موجودہ دور کا ہالی وُوڈ جو کہ ایتھسٹ کمیونٹی کے ہاتھوں میں زیادہ اور کرسچن کمیونٹی کے ہاتھوں میں کم ہے، یونانی دیوتاؤں کو سائنس فکشن کا بڑے آرام سے حصہ بنا لیتا ہے کیونکہ ہم سے لاکھوں سال ایڈوانسڈ انسانوں کی موجودگی انہیں یقیناً ہمارے لیے دیوتاؤں کے درجے پر پہنچا دیتی ہے، حالانکہ ہالی وُوڈ میں کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوگا جو یونانی مذہب کو بطور مذہب آج تسلیم کرتا ہو۔ اور نہیں تو ’’ٹرانسفارمرز سیریز‘‘ جیسی مشینی فلم کے کردار ہی دیکھ لیں!

اب اگر مذہب کی سائنس بھی دیگر سائنسز کی طرح ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے تو پھر جیسا کہ ’’زمانے‘‘ اور’’نُور‘‘ کی مثال سے میں نے واضح کیا، آنے والے کل میں سامی مذاہب اور خصوصاً خدائے واحد کی موجودگی تک بھی ضرور جا پہنچے گی کیونکہ مذہب کی سائنس کا مطالعہ ہمارے فہم کے ابتدائی مراحل سے نکل کر ، تب تک، زیادہ ترقی یافتہ مراحل تک پہنچ چکا ہوگا۔

ایک بات جو میں کئی بار دہرا چکا ہوں نہایت اہم ہے۔ ریشنل ایکٹوٹی اور امپریکل ایکٹوٹی ایک دوسرے کے متخالف واقع ہیں۔ اسلام نے امپریکل ایکٹوٹی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کئی بار کہا ہے کہ اس طرح تم جزواً جزواً خدائے واحد کی طرف بڑھتے ہو۔ کائنات کے مطالعہ یعنی سائنس کی طرف انسان کو مائل کرنے والا فقط اسلام ہی تھا اور کوئی نہیں۔ سقراط اور افلاطون کو حواسِ خمسہ سے دشمنی تھی۔ قرآن نے اپنے وقت سے پہلے کی تمام فلاسفی کے برخلاف یہ کہا کہ ستاروں پر غور کو! زمین پرغور کو! کائنات کو تسخیر کرو! وغیرہ وغیرہ۔ یہ سائنس کی دعوت تھی۔ اگر اس دعوت سے خدا نہ ملنا ہوتا تو اسلام کبھی اس طرح کی دعوت بار بار نہ دیتا۔ یہ فقط ریشنل ایکٹوٹی کو چھوڑ دینے کی دعوت تھی، جو بالآخر غزالی اور کانٹ کی کوششوں سے چھُوٹ بھی گئی۔ قرآن نے یونہی اپنی آیات کو بھی ’’آیات‘‘ اور کائنات کی نشانیوں کو بھی ’’آیات‘‘ نہیں کہا۔ ان دونوں کو آیات کہنے کا مقصد یہی ہے کہ آیاتِ الٰہی (یعنی کائنات کی نشانیوں) سے ہی خدا تک پہنچو گے۔الذین جاھدوافینا لنہدینھم سبلنا۔ جوہماری طرف بڑھنے کی کوشش کرے گا۔ ہم اُسے اپنی طرف کا راستہ دکھائیں گے۔ (مفہوم)

Tags

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے