جنت کی کامیابی کون پائے گا؟

’’یقینا فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو:
اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
اور لغویات سے دور رہتے ہیں۔
اور زکوٰۃ ادا کرتے رہنے والے ہیں۔
اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے اور لونڈیوں کے حد تک، کہ ان پر(محفوظ نہ رکھنے میں)وہ قابل ملامت نہیں ہیں، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔
اور اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔
اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
(المومنون23:1-11)

حدیث:
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (ایک طویل حدیث میں) روایت ہے کہ آنے والے شخص نے (جو درحقیقت جبرائیل ؑ تھے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بتائیے ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو، اس کے فرشتوں کو، اس کی بھیجی ہوئی کتابوں کو، اس کے رسولوں کو اور آخرت کو حق جانو اور حق مانو، اور اس بات کو بھی مانو کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے، خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ چاہے وہ خیر ہو چاہے شر۔ (مسلم)

(بشکریہ انذار ڈاٹ پی کے)

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے