کیا آپ کو اپنے بچوں کی پروا ہے؟

ماشاءاللہ آپ بال بچوں والے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے آپ کے دوہتے پوتے بھی ہوں۔ فرشتوں جیسے معصوم بچے جن کی پرورش کسی زمانے میں نہایت لاڈ پیار اور احتیاط کے ساتھ ہوتی تھی۔ مشترکہ خاندانی نظام برقرار تھااور دیکھنے والی بہت سی آنکھیں اردگرد ہوا کرتی تھیں ۔ مگر جب سے جدیدیت در آئی ہے اور اپنی زندگی خود سے جینے کا رواج ہوا ہے، کسی قسم کی روک ٹوک اور مداخلت کے بغیر ۔ تو وہ جو کہتے ہیں نا کہ، کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ ایسے جوڑوں کو پرائیویسی (privacy)شاید مل گئی ہو، مگر اس کی جو قیمت چکا نا پڑ رہی ہے، اس کا شاید انہیں ٹھیک سے ادراک نہیں ہوتا اور جب ہوتا ہے تو پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔’’میں تے تیرا ڈھولن ماہی ‘‘قسم کی فیملی مین جب بچہ تشریف لاتا ہے، تو اسٹیٹس بلند کرنے کی دوڑ میں شریک ملازمت پیشہ جوڑے کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا کہ اس کی نگہداشت کے لیے کو ئی ٹین ایج لڑکا/لڑکی ملازم رکھ لیں۔ یہ ملازم لوگ باقی تو جو بھی کر  تے ہوں گے ، راقم کو اس سے سروکار نہیں۔ البتہ سب سے بڑا ظلم بچے کے ساتھ یہ کرتے ہیں کہ سارا سارا دن معصوم کو ٹی وی کے سامنے لٹائے یا بٹھائے رکھتے ہیں۔ کیونکہ خود ٹی وی میں جان پھنسی ہوتی ہے اور بچے کو مصروف کرنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں۔ اب ان کا کام صرف یہ رہ جاتا ہے کہ بھوک لگی تو منہ میں فیڈر دے دیا، یاضرورت ہوئی تو پیمپر بدل دیا۔ ان کے ساتھ کھیل کود، بات چیت اور زبانی ابلاغ کاسلسلہ بالکل بند۔ تنیجہ کیا ہوتا ہے؟ راقم نے ایسے کئی بچوں کو ذہنی مفلوج ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ جو نہ صرف بول نہیں سکتے۔ بات سمجھنے میں بھی دشواری محسوس کرتے ہیں۔ والدین کواول تو پتہ ہی نہیں چلتا، جب چلتا ہے تو دیر ہو چکی ہوتی ہے، اور ان معصوم جانوں کا نارمل زندگی کی طرف لوٹنا مشکل ہی نہیں ، بعض اوقات ناممکن بھی ہو جاتا ہے۔

یہ مسئلہ ہمارے ہاں ہی نہیں۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی ایک عذاب کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جس پر غور و فکر کے لیے چند برس پہلے بچوں کے امراض کے ماہرین بوسٹن میں سر جوڑ کے بیٹھے تھے، اور سب کی متفقہ رائے تھی  کہ اگر بچے کے ذہن کی صحیح نشونما چاہتے ہیں تو ٹی ۔وی کا پلگ نکا ل دیں اور گردوپیش سے ہر قسم کی سکرین ہٹا دیں۔ خاص طور پر دو برس سے کم عمر کے بچوں کے لیے تو سب زہر قاتل سے کم نہیں ۔ چیختی چنگھاڑتی اسکرینوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے ان کے ساتھ کھیلیں، چھوٹی چھوٹی باتیں کریں اور ان کے تجسس کا نوٹس لیں۔ منہ سے ادا ہونے والے الفاظ سے بچہ جس تیزی سے سیکھتا ہے، اس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ اسکرین سے بر آمد ہونے والی آوازیں اس کے ذہن کی اسکرین کو دھندلا جاتی ہیں اور وہ کنفیوژن(confusion) کا شکار  ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اسکولنگ (schooling) میں تاخیر ہی نہیں ہوتی ہے ، بلکہ یہ کمی کوتاہی زندگی بھر اس کے ساتھ چلتی ہے۔

دوسرا ظلم بچوں کے ساتھ ان کی جسمانی صحت کے حوالے سے ہو رہا ہے ۔ بعض ماؤں کے پاس تو واقعی وقت نہیں ہوتا اور بعض محض فیشن کے طور پر کچن سے پرہیز کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ بچوں کو باہر کا کھانے کی لت پڑتی ہے۔ جو بچوں کی اشیائے خوردونوش کے ملٹی بلین انڈسٹری کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ بازار میں ایسے ایسے چٹخارے دار آئٹم میسر ہیں کہ سال بھر کا بچہ بھی ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے اور اس الم غلم کے علاوہ اس کے گلے سے کوئی چیز نیچے نہیں اترتی۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ بے پناہ چینی ، نمک ، گھی ، چربی  اور کیمیکلز اور خوش نمارنگوں کا ملغوبہ اشیائے خوردونوش بچوں کے لیے زہر سے بڑھ کر ہیں۔ غذا کے نام پر لی جانے والی ان اشیاء میں غذائیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ البتہ انہیں بیماریوں کی پوٹلی ضرور کہا جاسکتا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا اسے جنک فوڈ کے نام سے یاد کرتی ہے جس کا سیلاب کوئی پچاس برس پہلے مغرب سے ہی امڈا تھا۔ مگر اب وہ سیانے ہو چکے ہیں اور جنگ فوڈ سے تائب بھی۔ اور ہم ہیں کہ اسے اسٹیٹس سمبل بنا کر اپنی آنے والی نسلوں کی تباہی کا سامان بدستور کیے جارہے ہیں ۔ یادرکھیں کہ جسمانی مشقت سے محروم بچےالم غلم کھا کر ایک بار وضع ہوگئے تو زندگی بھر سمارٹ ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ گول مٹول بچپن تو اچھا لگتا ہے، مگر پھولی پھولی سی جوانی سے گھن آتی ہے اور رہا بڑھاپا تو اس کا تو تصور ہی روح فرسا ہے۔ بڑھاپے میں اگر توانا ور فٹ رہنا مقصود ہو تو اس کی تیاری بچپن سے کرنا ہوتی ہے بدقسمتی سے اسکولوں میں کھیل کے میدان نہ رہے اور یوں بچوں میں کاہلی در آئی ۔ رہی سہی کسر سیل فونز اور کمپیوٹر ایکٹیویٹی (computer activity)نے نکا ل دی۔

الحمداللہ ، ہماری نسل کا بڑھاپا نسبتاً خوشگوار ہے، کیونکہ ہم نے ایکڑوں میں پھیلے وسیع و عریض گراؤنڈ ز والے سکولوں میں تعلیم پائی تھی۔ گاڑیوں کا سیلاب ابھی نہیں آیا تھا۔ سو سائیکل بھی چلاتے تھے اور پیدل بھی چلتے تھے۔ ملازمین کے ہوتے ہوئے بھی ہاتھ پاؤں ہلانے کی عادت ڈالی جاتی تھی۔ دس دس مرلے والے ڈرنہ نما ، مگر بڑے ناموں والے  اسکولوں میں پڑھنے والے ، گاڑی سے پاؤں نیچے نہ رکھنے والے، اور بات بات پر ملازم کو آواز دینے والے جدید نو نہالوں کے مستقبل  کا تصور کر کے ہول اٹھتا ہے۔ ماں باپ کو اولاد سے یقیناً محبت ہوتی ہے، اگر وہ ان کا بھلا چاہتے ہیں تو انہیں جعلی ماحول سے نکا لیں۔ اسکولوں میں انتظام نہیں تو ہاہر میدانوں میں کھیلنے کے لیے بھیجیں۔کم از کم سڑک پر سو، پچاس میڑ کی دوڑ ہی لگوا دیا کریں ۔ انہیں  گھر کا چھوٹا موٹا کھانے کی عادت ڈالیں اور قطار میں لگ کر جنک فوڈ خریدنے کے فیشن کے چکر سے نکالیں۔ اپنی چیزیں خود سنبھالنے اور اپنا کام خود کرنے کا عادی بنائیں۔ ورنہ بڑھاپا تو ظالم ہوتا ہی ہے۔ اپنے وقت کے عظیم ویٹ لفٹر اور 1956 کے اولمپکس کے رنر اپ جوئے سارٹر کچھ عرصے پہلے سپر مارکیٹ سے پانچ لیٹر آئل کا ڈبہ اٹھا کر گاڑی تک لائے، تو کندھے کا جوڑ اپنی جگہ سے کھسک گیا۔رستم زماں کی شہرت رکھنے والے نامی گرامی پہلوان ، اکھاڑے میں کسرت کرتے ہوئے نو آموز پہلوان کے ڈنڑ پیلنے کے انداز سے غیر مطمئن ہوا ، تو خود کر کے دکھانے کی ٹھانی، اور تیسرے ہی ڈنٹر میں زمین سے اٹھ نہ پایا تھا۔

آج کی مائیں کچھ زیادہ ہی ماڈرن اور مصروف ہیں۔ بچوں کو ملازموں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کو اسٹیٹس سمبل (status symbol) خیال کرتی ہیں۔شاید ان کے علم میں نہیں کہ امریکہ کی خاتون اوّل مشعل اوباما جب وائٹ ہاؤس منتقل ہوئیں تو سرکاری و سماجی تقریبات میں کم کم دکھائی دیتی تھیں۔ کسی نے پوچھا تو محترمہ کا جواب تھا کہ میری دونوں صاجزادیاں امپریشل ایبل ایج میں ہیں ۔ ایک دس اور دوسری سات برس کی ۔ وہ وقت میری اولین ترجیح ہیں، آج کل میں مام انچیف(Mom-In-Chief) کا کردار نبھارہی ہوں۔ اور قوم کے بچوں سے رغبت کا یہ عالم کہ ان میں بڑھتی ہوئی فربہی نے ان کی نیندیں اڑا دی تھیں اور بنفس نفیس ’’بچوں میں موٹاپے‘‘    کے خلاف ملک گیر تحریک کی قیادت کی۔ بچوں میں تازہ اور صحت بخش غذا کاتصور اجاگر کرنے کی غرض سے وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں سبزیوں کے لیے ایک قطعہ زمین تیار کرایا۔ جہاں سبزیوں کی کاشت اور دیکھ بھال کے لیےاسکول کے بچوں کو دعوت دی جاتی ہے اور وہ منظر دیکھنے کے لائق ہوتا ہے جب وہ اسکول یونیفارم میں ملبوس بچے وائٹ ہاؤس کے لان میں اپنے اگائے ہوئے آلوؤں اور ٹماٹروں کی دعوت اڑاتے ہیں۔

ماھنامہ انذار

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے