خوشی کا حصول

خوشی ہر آدمی  چاہتا ہے- لیکن مطلوب خوشی کسی کو نہیں ملتی- چنانچہ خوشی عملاً ایک ناقابل حصول چیز بنی ہوئی ہے- برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل نے خوشی ( happiness ) کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے- اس میں وہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں خوشی کسی کے لیے قابل حصول نہیں- اس معاملے میں اسلام نے ایک فطری فارمولا اختیار کیا ہے- قرآن میں بتایا گیا ہے اطمنان قلب انسان کو صرف اللہ کی یاد ( الرعد :28) سے حاصل ہوتا ہے- یعنی قرآن میں دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا ہے، مادی لذت ( physical pleasure ) اور ذہنی اطمنان ( intellectual satisfaction )-  اللہ کے نقشہ تخلیق کے مطابق، مادی لذت کامل معنوں میں صرف جنت میں ملے گی- اس دنیا میں جو چیز مل سکتی ہے، وہ ہے ذہنی اطمنان-  اور وہ بلاشبہ ہر انسان کے لیے قابل حصول ہے-

ذہنی اطمنان یہ ہے کہ آدمی صورتحال کی معقول توجیہہ دریافت کر سکے- مثلاً آپ ٹرین پکڑنے کے لیے اسٹیشن گئے- آپ اسٹیشن پر ٹرین کے مقرر وقت کے مطابق جاتے ہیں- وہاں پہنچ کر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ ٹرین دو گھنٹہ لیٹ ہے- اگر آپ کو لیٹ ہونے کا سبب معلوم نہ ہو تو آپ پریشان ہو جائیں گے- لیکن اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ ٹرین کے لیٹ ہونے کا واقعی سبب کیا ہے- تو آپ مطمئن ہو جائیں گے اور ذہنی سکون کے ساتھ ٹرین کی آمد کا انتظار کریں گے-

خالق نے موجودہ دنیا کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے اور آخرت کو انعام کے لیے- اس لیے موجودہ دنیا میں مادی لذت کسی کو پورے معنوں میں نہیں مل سکتی- لیکن یہ ممکن ہے کہ آدمی صورتحال کی توجیہہ کر کے ذہنی اطمنان حاصل کر لے- اسلام کے مطابق خوشی کا فارمولا یہی ہے- مادی لذت کے معاملے میں آپ یہ کیجئے کہ ملے ہوئے پر قناعت کیجئے- اور نہ ملے ہوئے کو آخرت کے خانے میں ڈال دیجئے- اس طرح آپ کا ذہن آزاد ہو جائے گا اور واقعات کی صحیح توجیہہ کر کے آپ ذہنی اطمنان حاصل کر لیں گے- خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق خوشی کے حصول کا یہی قابل عمل فارمولا ہے-

مولانا وحیدالدین خان

Tags

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے