مکڑی کا جالا

نزولِ قرآن کے وقت اللہ تعالیٰ نے مخاطب مشرکینِ عرب کو یہ چیلنج دیا تھا کہ تم اگر اس کتاب کوغیراللہ کی تصنیف سمجھتے ہو تو خود بھی اس جیسی کوئی کتاب یا اس کی کسی ایک سورت کی مانند ہی کوئی کلام بنا کر دکھا دو۔ یہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اور آپ کی دعوت کو جھوٹا ثابت کرنے کا ایسا آئیڈیل ذریعہ تھا جس کو کفارِ مکہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتے تھے ۔ مگر زبان و بیان اور شعر و خطابت پر اپنے تمام تر عبور و مہارت کے باوجود کفارِ مکہ نے اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اس لیے کہ یہ ان کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ یوں یہ بات قرآن کی سچائی کا ایک زندہ ثبوت بن گئی۔

تاہم یہ انسانی طبیعت ہے کہ جب وہ کسی چیز کو اپنے تعصبات کی بنا پر نہ ماننے کا فیصلہ کر لے تو وہ کوئی نہ کوئی نکتہ آفرینی کر کے ہر دلیل کا جواب دینے کی کوشش ضرور کرتا ہے ۔ چنانچہ کفار قرآنِ مجید کے مقابلے کا کلام تو نہ پیش کرسکے البتہ انھیں جواب میں ایک نکتہ ضرور سوجھا جس سے وہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے کہ قرآن کوئی اعلیٰ کلام نہیں ہے ۔ وہ کہتے کہ قرآن اعلیٰ کلام کیسے ہو سکتا ہے ، اس میں تو معمولی حشرات جیسے مکھی اور مکڑی کی مثالوں سے اپنی اصل دعوت یعنی توحید کوثابت کیا گیا ہے ۔ ان کی اس نکتہ آفرینی کا جو جواب قرآنِ مجید دیتا ہے وہ سورۂ بقرہ آیت 26 میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ جن دو مقامات پر ان حشرات یعنی مکڑی اور مکھی کی مثالوں سے توحید کو واضح کیا گیا ہے وہ اتنے خوبصورت اور باکمال ہیں کہ تمام زمانوں کے مشرکانہ سوچ رکھنے والے اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا مددگار اور محافظ سمجھنے والے لوگوں کا منہ بند کرنے کے لیے بہت ہیں ۔ یہ مقامات درج ذیل ہیں :

’’اے لوگو! ایک تمثیل بیان کی جاتی ہے تو اس کو توجہ سے سنو! جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا کرسکنے پر قادر نہیں ہیں اگرچہ وہ اس کے لیے سب مل کر کوشش کریں ، اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس سے اس کو بچا بھی نہیں پائیں گے ۔ طالب اور مطلوب دونوں ہی کمزور ہیں! انھوں نے اللہ کی۔ ۔ ۔  جیسا کہ اس کا حق ہے ۔ ۔ ۔  قدر نہیں پہچانی! بے شک اللہ قوی اور غالب ہے ۔‘‘، (حج:73-74)

’’ان لوگوں کی تمثیل جنھوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنائے ہیں بالکل مکڑی کی تمثیل ہے ، جس نے ایک گھر بنایا اور بے شک تمام گھروں سے بودا گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ وہ اس حقیقت کو جانتے !  بے شک اللہ اچھی طرح جانتا ہے ان چیزوں کو جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں ۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے اور یہ تمثیلیں ہیں جن کو ہم لوگوں کے غور کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں لیکن ان کو صرف اہلِ علم ہی سمجھتے ہیں ۔‘‘، (عنکبوت: 41-43)

یہ دونوں مقامات اس حقیقت کو بالکل کھول کر بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی ہستی کو اس دنیا میں کوئی قوت اور طاقت حاصل نہیں ۔ اللہ کے سوا جن ہستیوں پر بھروسا کیا جاتا ہے ، جن سے مدد مانگی جاتی ہے ، جن کو لوگ اپنا محافظ اور حمایتی سمجھتے ہیں وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک پست ترین چیز کو بھی تخلیق نہیں کرسکتے اور اگر خدا کی کوئی حقیر مخلوق ان کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو جو بیچارے خود اپنے آپ کو نقصان سے نہیں بچا سکتے وہ کسی اور کی مدد کیا کریں گے ۔ ان پر بھروسا کرنے والا شخص آخرت میں اپنے تحفظ کے لیے جو چھت بنا رہا ہے وہ مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے ۔ قیامت کا زلزلہ جو پہاڑوں کو بھی ہوا میں اڑا کر مٹی بنادے گا۔ اس میں کسی مکڑی کے جالے کی کیا وقعت۔ قیامت کے دن غیر اللہ پر بھروسہ کرنے والے سارے لوگ جان لیں گے کہ پروردگار کے مقابلے میں کسی کی کوئی حیثیت نہیں اور سارا اختیار و اقتدار صرف اور صرف ایک اللہ کو حاصل ہے جو انسانوں کی واحد پناہ گاہ ہے ۔

جس شخص نے اس حقیقت کو مان کر زندگی گزاری وہی بندۂ مومن ہے ، باقی رہے غیراللہ کو کارساز سمجھنے والے تو ان کی ہر دلیل تارِعنکبوت (مکڑی کے جالے ) کی طرح کمزور اوربے وقعت ہے ۔ یہ دنیا میں بھی کسی دلیل کا سامنا نہیں کرسکتی اور آخرت میں بھی کسی ایسے شخص کو خدا کی پکڑ سے بچانے والی نہیں جس نے خدا کو چھوڑ کر اس کے غیر پر بھروسا کیا۔

ابو یحی

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے