فحش اشتہارات

موسم سرما کے رخصت ہونے کے ساتھ ہی شاہراہوں پر جگہ جگہ ایڈورٹزمنٹ(advertisement) کے سائن بورڈز نصب کئے گئے ہیں۔ یہ خواتین کی لان فروخت کرنے والی کمپنیوں اور فیشن ڈیزائنرز کی طرف سے لگائے گئے ہیں۔ جن کا مقصد تو خواتین کے کپڑوں کی فروخت ہے، مگر ان میں سے اکثر اشتہارات اخلاقی معیار سے گرے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ایڈورٹزنگ آج کل مارکیٹنگ کا ایک اہم اور لازمی جزو ہے جس کا بنیادی مقصد خریدار کو متوجہ کرنا، اسے پراڈکٹ کے بارے میں تفصیلات بتانا اور خریدنے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر مارکیٹنگ کے اس اصل مقصد کا تجزیہ  کیا جائے تو  بظاہر اس میں کوئی اخلاقی قباحت نظر نہیں آتی۔ لیکن دولت کمانے کی ہوس ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کاوش اور ہر جائز نا جائز طریقے سے اپنے حریف پر سبقت لے جانے کی کوشش نے ایڈورٹائزنگ کو ایک غیر اخلاقی عمل بنا دیا ہے۔

خواتین کی نیم عریاں نمائش کا یہ عمل صرف لان کی ہورڈنگز تک محدود نہیں۔ ٹی وی پر چلنے والے اکثر اشتہارات اس برائی کو پھیلانے میں آگے بھی ہیں اور موثر بھی۔ ان اشتہارات میں عورت کے وجود کا ایک ایک انگ نمایاں کرنے اور نسوانی سراپے کو کیش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فحش ڈائلاگز، بے ہنگم موسیقی ، آبرو باختہ لطیفے ، نوجوانوں کو رات بھر عشقیہ باتوں کی ترغیب اور دیگر پہلو بھی ان اشتہارات کا لازمی جزو ہیں۔

اگر صاف پانی کے تالاب میں گندگی ڈالی جائے تو پانی دھیرے دھیرے گدلا ہونے لگتا ہے اور دیکھنے والوں کو احساس بھی نہیں ہوتا۔  اسی طرح ہمارے اشتہارات میں یہ غیر اخلاقی پہلو اس آہستگی کے ساتھ سرایت کر گیا ہے کہ اب یہ سب کچھ شرفا ء کو بھی برا نہیں لگتا۔

اگر اس قبیح عمل کو یہاں نہ روکا گیا تو یہ معاملہ یہاں رکے گا نہیں۔ حرس و ہوس کے پجاری معاملات کو اسی نہج پر لے آئیں گے کہ پھر واپسی مشکل تر ہوتی چلی جائے گی۔ شکوہ ان لوگوں سے نہیں جو مغربی ذہنیت کے غلام ہیں۔ شکایت تو قوم کے ان سنجیدہ حلقوں سے ہے جو حیا کو ایک بنیادی قدر مانتے اور اسے فروغ دینے کے حامی ہیں۔ لیکن نہ تو ان کی زبانین کسی فورم پر آواز اٹھاتی ہیں اور نہ ہی ان کے قلم اس بے اخلاقی پر حرکت میں آتے ہیں۔

صورت حال اگر یہی رہی تو اگلی نسلوں کے آنے تک  حیا ایک ماضی کی داستان بن کے رہ جائے گی اور مغربی و اسلامی اقدار کا فرق برائے نام رہ جائے گا۔ اس موقع پر صنعت کاروں، تاجروں اور حکومتی اداروں کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ اس طرح کا ایک کوڈ آف کنڈکٹ بنایا جائے جو مارکیٹنگ کے مقاصد بھی حاصل کرتا ہو اور فحاشی کے زمرے میں بھی نہ آئے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو نتیجے کے طور پر جنسی آسودگی ، آبروریزی اور آزادانہ جنسی اختلاط کا ایک طوفان جنم لے گا جو محض چند طبقات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا شکار ہر دوسرا محلّہ اور گھر ہوگا اور کیا خبر یہ اسی اشتہار دینے والے کا گھر ہو جس نے عریانی کے ذریعے دولت کمانے کی کوشش کی تھی۔

پروفیسر محمد عقیل

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے