محنت میں عظمت

بچپن  میں ہر بچے  کو اس  کے والدین یہ بات لازمی  کرتےہیں  کہ محنت کرنی چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں محنت کی عظمت پر مضامین لکھے جاتےہیں۔ محنت کے متعلق  کہا گیا ہے  "ائے ابنِ آدم تمہیں محنت کے لیے پیدا  کیا گیا  ہے۔ "تمام مذاہب میں  محنت  کے  متعلق  کہا گیا ہے  کہ محنت میں عظمت ہے۔ قرآن مجید  میں ارشاد ہے "انسان کو وہی  کچھ  ملتا ہے  جس  کی  وہ  کوشش کرتا ہے۔”آج دنیا میں جتنی بھی  ترقی ہوئی  ہے  یہ محنت کا ہی نتیجہ ہے۔  محنتی ہونا ایک مزاج ہے اور اور اس  مزاج  کا ملنا  ایک انعام ہے۔

ہمارے  ہاں   یہ شکوہ  کیا جاتا ہے  کہ محنت کا صلہ نہیں  ملتا ۔ محنت  کا صلہ  نہ ملنا یہ ایک مِتھ ہے  ۔ ہم  جس  کو محنت  کہتے ہیں اکثر وہ محنت نہیں ہوتی۔جہاں دروازہ ہو وہیں  راستہ  ہوتا ہے  کبھی دیوار راستہ  نہیں  بنی   ۔ ساری زندگی دیوار   پر محنت کرنے سے راستہ   نہیں ملا کرتا۔  مقصد اور ویثرن کا ایک ہونااور پھر محنت  کا کرنا  منزل  کے حصول  کو  ممکن بناتا ہے۔  بلکہ  یوں کہا جائے کہ محنت سے بھی زیادہ  اگر کوئی چیز ضروری ہے تووہ مقصد ہے۔بہت سے لوگ اس لیے  دل جمعی  سے  محنت  نہیں  کرتے  کیونکہ  ان کے پاس مقصد  نہیں  ہوتا۔ جب ٹارگٹ کا پتا ہو تو  بندہ  ٹارگٹ  حاصل  کرنے کے لیے اپنا آپ لگا دیتا ہے۔ لوگ اپنے آپ، اپنے علم اور اپنی صلاحیتوں  کے حوالے سے کنفیوزن کا شکار ہوتےہیں ۔ جب کنفیوزن ہوتو  ذہانت  کے باوجود بھی  توانیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ ۔میلکن گلیڈول  اپنی  کتاب "آوٹلے” میں  کہتا ہے شاندار کامیابی  کے لیےضروری  ہے کہ دس ہزار گھنٹے ایک ہی  کی کام مستقل مزاجی سے کیا جائے۔

ہمارے ہاں  محنت کرنے میں شرم محسوس  کی  جاتی   ہے بلکہ اس سے  بھی زیادہ  جو محنتی ہوتا ہے  اسے حکارت سے "کاما” کہا جاتا ہے ۔ حالت یہ ہے کہ  بچے  خود سے پانی   پینا پسند نہیں  کرتے اوپر سے گھر والے بار بار انہیں باور کراتے  ہیں کہ  ابھی تم نے کام نہیں  کرنا ابھی تم  بچے ہو۔  بعض  لوگوں  کی اپنی  بیٹیوں  کے متعلق  یہ سوچ  ہوتی ہے کہ ہم اپنی  بیٹیوں  کی شادی اس جگہ  کریں گے  جہاں  کام  کرنے  کے لیے نوکر چاکر ہوں ۔  اس  مزاج سے  بچوں  کے رگ رگ  میں سستی  رچ  بس جاتی ہے۔ محنت واحد زنجیر  عد ل ہے جس  کو غریب کا بچہ  بھی پکڑ لے تو وہ بادشاہ  بن سکتا ہے۔  دنیا  میں محنت  کے بھل بوتے  بادشاہ  بننے  کی  کئی مثالیں موجود   ہیں ۔اصل  بات یہ  ہوتی ہے کہ کسی  نے محنت کے  بارے میں سنا  کیا ہے۔  اگریہ سنا ہے   کہ محنت کرنا  اچھی بات ہے تو پھر  محنت والا مزاج  پیدا ہو گا۔  بعض  اوقات ایسا    ہوتا ہے   محنتی  لوگ دیکھے نہیں ہوتے۔    بعض  لوگوں  کا پورے  کا پورا گروپ  ہی سست اور کاہل لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پنجابی  میں ایسے  لوگوں  کے متعلق  کہا جاتا ہے کہ ویلے  ویلوں   کے یار ہوتےہیں۔   کاواں  دے یار کاں  تے عقاباں  دے عقاب۔ انسان اپنے  مزاج   کا سنگی اور ساتھی بناتا ہے۔محنتی  لوگ محنتی لوگوں   کو دوست  بناتےہیں ۔ محنتی شخص کو کام نہ کرنے والے زہر لگتےہیں۔

ایک سروے  کے مطابق دنیا کی سب سے محنتی  جاپانی قوم ہے وہ سال میں 2450 گھنٹے کام  کرتی  ہے۔ اس  کے  بعد امریکی قوم  ہے جوسال  میں  1957 گھنٹے  کام  کر تی  ہے۔ اس   کے بعد  برطانوی  قوم ہے جو ایک سال میں 1911 گھنٹے کام کرتی ہے اور اس کے بعد   جرمنی کا نمبر  آتا ہے جو 1880 گھنٹے کام  کرتےہیں۔   انہیں  ملکوں کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔آج  ہمارا طالب علم تعلیم حاصل  کرنے کے بعد  انہیں ممالک میں جانا پسند کرتا ہے۔  ہم  یہاں سےان ملکوں میں  جاکر  کام  کرنے  کو تیار ہیں لیکن  یہاں  پر کام  کرنے   کو  کیوں تیا ر نہیں ہوتے یہ  بہت بڑا سوال  ہے۔پاکستان   میں  بعض  لوگ  ایسے بھی ملتے  ہیں ان میں سے اگر کسی  کو پوچھا  جائے کہ آپ کیا  کرتےہیں تو  جواب  ملتا ہے  بڑا بھائی  باہر ہوتا ہے  ۔اس  کا مطلب ان  کے ہاں کمانے والا ایک  ہے اور باقی کھانے والے ہیں۔

محنت  کا رجحان  تب پیدا  ہوتا ہے  جب رول ماڈل  محنتی ہو۔ محنت  کا رجحان تب پیدا ہوتا ہے  جب اردگرد مثالیں ہوں۔  خندق کا میدان ہے سرکار دوعالم ﷺ کے پاس ایک صحابی آئے  اور کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ بھوک کی شدت کی  وجہ سے میں  نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا ہے ۔آپﷺ  نے ان  کو اپنا  پیٹ  مبارک دکھاتے ہوئے فرمایا یہ دیکھوں  میں نے دو باندھےہیں۔  سوچنے کی  بات ہے اس صحابی رسول   کی موٹیویشن  کا  کیا لیول ہوگا جنہوں نے  سرکار دوعالم ﷺ   کو پیٹ مبارک   پر دو پتھر باندھے ہو ئے دیکھا ہوگا۔ محنت  کرنے  والا   کئی محنت  کرنے والوں کو پیدا کرتا ہے۔ آج ہماری   نوجوان  نسل  کا مسئلہ  یہ ہے کہ  آج ان کے پاس کوئی  رول ماڈل  نہیں ہے۔ اگر پچھلے بیس  سالوں   کو دیکھا جائے تو ہمارے  ملک میں جتنے  بھی سیاستدان  آئے ان کا کردار  ایساتھا  کہ ان پرسے اعتبار نہیں بن سکا ۔   آج  کے  نوجوان کے پاس  اچھی مثالیں نہیں  ہیں۔ وہ تمام لوگ  جنہوں نے کسی تحریک میں کام  کیا ہو  انہیں  صحیح  محنت کی عظمت  کا پتا ہوتا ہے ۔ تحریک  سے وابسطہ  ہونے  سے محنتی مزاج پیدا  ہوتا ہے کیونکہ  جب لیڈر محنتی  ہوتو ٹیم بھی محنت  کرناشروع  کری دیتی ہے۔  جب تک ہمارے ادارے  ، ہمارے سکولز، ہماری یونیورسٹیاں اور ہمارے  کالجزاس ایجنڈ ا  کو نہیں سامنے رکھتے   تب تک  محنتی  لوگ  پیدا نہیں ہوں گے۔

انسان ایک ایسی مخلوق ہے  جو   کہانی  کو سمجھتا ہے ،   کہانی سنتا ہے اور کہانی  سے سبق  حاصل  کرتا ہے ۔ محنتی  مزاج  پیدا  کرنے کے لیے ہمیں  اپنے تعلیمی  نصاب  میں سچی   کہانیاں شامل  کرنی چا ہیے۔  نیشا  پور  کا ایک گاؤں غزالہ  جس میں استاد  ایک  امیر  بچے  کو پڑھانے روزانہ شہر سے آتا تھا  ۔ اس گاؤں میں ایک ایسا بچہ بھی رہتا تھا  جو بہت غریب تھا  لیکن اسے  تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق  تھا۔ اس بچے کو جب  استاد کے بارے میں پتا چلا  تو  وہ اس کے پاس گیا  اور کہا: استادجی  مجھے  پڑھنے کا بہت شوق ہے آپ مجھے بھی پڑھا دیا کریں۔ استاد نے اس سے  کہا  میں صرف اس بچے  کو پڑھانے کا  معاوضہ لیتا ہوں اگر میں تمہیں پڑھاؤں گا  تو یہ  بےایمانی  ہوگی۔ وہ  بچہ  استاد کو  کہتا ہے  آپ جب شہر جاتےہیں  تو میں آپ کے ساتھ ساتھ پیدل چلا کروں گااس دوران آپ  مجھے  پڑھادیا کریں ۔ استاد راضی ہوگیا اور یوں وہ  بچہ  استاد سے روزانہ بارہ کلومیٹر پیدل  سفرکرتا تعلیم حاصل کرتارہا۔ آج دنیا  اس  بچے  کو حضرت امام غزالیؒ  کے نام  سے جانتی ہے۔نامور  بننے کے لیے   محنت  کرنی پڑتی ہے۔  محنت  کے حوالے سے نیلسن  مینڈیلا بہت  بڑی مثال ہے  لیکن     نیلسن  مینڈیلا سے  کئی گنا زیادہ  ہمیں  قائداعظمؒ   کی مثال اچھی  لگتی ہے۔  وہ  لوگ  کامیاب ہوتےہیں   جواپنے اہم  کاموں  کو زیادہ اہمیت  دیتے ہیں اس  کے مقابلے میں   ناکام  لوگ غیر اہم  کاموں  کو اہمیت  دیتےہیں۔ اہم  کاموں کے نتائج   دیر   بعد ملتےہیں ۔ کامیابی  کےلیے اہم  کاموں کی کمیٹی  ڈالنی ہوتی ہے۔اہم  کاموں  کے نتائج  لینے  کے لیے صبر کرنا پڑتا ہے۔

بڑے نتائج  کےلیے  بڑی محنت درکار ہوتی ہے۔   ہزاروں  کوششوں کے بعد ایڈیسن  بلب بنانے کے قابل ہوا۔پچیس سال کی محنت کے بعد پولیو کے قطرے ایجاد ہوئے۔  کمپیوٹر  کی ونڈو پندرہ سال   میں  بنی ۔  چاند  پر جانے کے لیے  سولہ ہزار  کوششیں  کی گئیں۔ جو  لوگ  بڑا کام کرتے ہیں ان کے  اندر یقین ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ  کسی  کی محنت کو ضائع  نہیں کرتا ۔ بندہ  خود اپنی  محنت  کو ضائع  کرتا ہے۔ بندے کی اپنی سمت ٹھیک نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ  کا قانون ہے جو محنت کرے گا وہ  اس کا پھل کھائے گا۔ بعض  لوگ بدنیت  ہوتے ہیں   ان  کی بدنیتی  ان کی محنت کو ضائع  کر دیتی ہے۔   بعض  لوگ لالچی  ہوتےہیں ان کا لالچ  ان کی محنت  کو ضائع کر دیتا  ہے۔  بعض  لوگ شارٹ کٹ  کے چکر میں ہوتےہیں ان کا   شارٹ کٹ   ان کی محنت  کو ضائع کر دیتا ہے۔محنت   کے وقت ضرور  محنت  کرنی چاہیے۔  پنجابی  میں کہا جاتا ہے  "ویلے دی نماز  کویلےلی دی ٹکر۔ "حضرت واصف علی واصفؒ  فرماتےہیں ” وہ  لوگ جنہوں نے اپنی جوانی  میں اپنے بڑھاپے کی فکر کی ان کو بڑھاپے میں حسرتوں کو سامنا نہیں کرناپڑتا۔”

انسا  ن  کو اپنی حثییت  کے مطابق ضرور  محنت کرنی چاہیے۔ہر شخص کی صلاحیت  مختلف ہوتی ہے۔ اگر چھکا  مارنے  کی ہمت   ہو تو ضرور  چھکا مارنا چاہیے۔  چھکا مارنے کی صلاحیت ہو لیکن چھکا نہ ماراجائے  تویہ زیادتی ہے۔ محنت   میں اپنے آپ  کوہلکان  بھی نہیں کرنا چاہیے۔ یہ  نہیں  ہوناچاہیے کہ  ایک کلو وزن اٹھانے  کی طاقت  ہو اور  چار کلو  وزن اٹھا لیا جائے۔  طویل عرصہ  کام  کرنے کےلیے مناسب وزن  کے ساتھ  چلنے سے  ہی  کامیابی  ملتی ہے۔

سید قاسم علی شاہ

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے