کتاب سے تبدیلی تک

آپ نے یقینا ایسی کئی کتابوں کے بارے میں سنا ہو گا جو پڑھنے والے کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتی ہیں۔

جنہیں پڑھنے کے بعد پڑھنے والا خود کو ایک بہتر انسان محسوس کرتا ہے۔ اس کی سوچ میں وسعت آتی ہے یا وہ اپنے اندر ایک نیا حوصلہ اور امید ڈھونڈ لیتا ہے۔ حقیت یہ ہے کوئی بڑی سے بڑی کتاب بھی انسان کو نہیں بدل سکتی جب تک خود اس کے اندر اپنے آپ کو بدلنے اور بہتر بنانے کی خواہش موجود نہ ہو۔ دو شخص ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں‘ ایک اس سے بہت متاثر ہوتا ہے اور اپنی سوچ بدل لیتا ہے جبکہ دوسرا شخص اسے پڑھ کر کچھ بھی ایسا محسوس نہیں کرتا کہ وہ اپنے اندر کوئی مثبت تبدیلی لے کر آئے۔

سمجھنے والا نکتہ یہ ہے کہ کتاب نہیں بلکہ خود انسان اپنے اندر تبدیلی کو جنم دیتا ہے۔ جب آپ پڑھنے کے ساتھ ساتھ غور و فکر بھی کرتے ہیں، اپنے پہلے سے قائم شدہ تصورات کا جائزہ بھی لیتے ہیں اور خود کو بدلنے کے لئے تیار بھی رہتے ہیں تو صرف اسی وقت کتاب اپنا اثر دکھاتی ہے اور آپ کے اندر مثبت تبدیلی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

اس مرحلے پر میں آپ کو دو منظر دکھانا چاہتا ہوں، پہلے منظر میں ایک طالب علم کتاب پڑھ رہا ہے، وہ کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر وہ اس عمل سے پوری طرح بیزار دکھائی دے رہا ہے۔ وہ اس سے ذرا بھی لطف اندوز نہیں ہو رہا۔ اس کے ذہن پر صرف ایک ہی خوف سوار ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ کل اسکول میں اس کتاب کے بارے میں ہونے والا ٹیسٹ پاس کرے۔ اس کتاب میں کن دلچسپ کرداروں کا ذکر ہے، کتاب میں کس جگہ کوئی ڈرامائی عنصر آتا ہے، اسے ان چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے چہرے پر حیرت ہے نہ ہی تجسس کی کوئی کیفیت، وہ جذباب سے عاری ہے۔ وہ صرف یاد کر رہا ہے اور کل ہونے والے ٹیسٹ کا خوف اس پر پوری طرح مسلط ہے۔

دوسرے منظر میں ایک شخص کتاب پڑھ رہا ہے۔ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے سامنے اپنی لاعلمی‘ اپنی غفلت اور کمزوریوں کا نقشہ بھی آ رہا ہے۔ اسی حالت میں اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ جو کتاب کے صفحات گیلے کرتے جا رہے ہیں۔ وہ کہاں بیٹھا ہے، اسے اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ پوری طرح کتاب میں کھو چکا ہے۔ کتاب کا ایک ایک لفظ تاثیر سے بھرا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی اپنے آپ کو بدلنے اور بہتر بنانے کے لئے پوری طرح چوکس ہے۔

پہلے منظر میں کتاب پڑھنے والا اپنے اندر کوئی بھی مثبت تبدیلی لانے میں ناکام ہے جبکہ د وسرے منظر میں کتاب کی تاثیر صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ بعض اوقات بدلنے والے ایک چھوٹی سی تحریر یا مقولہ پڑھنے سے بھی بدل جاتے ہیں۔ میں نے ایک بڑے شخص کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ وہ ایک عام سا شخص تھا۔ اسے کہیں سے ایک کاغذ کا ٹکڑا ملا، اس پر لکھی تحریر نے اس پر اتنا اثر ڈالا کہ اس نے ایک مختلف زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا اور بڑے لوگوں میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو گیا۔ جو لوگ کتابوں کو سنجیدگی سے پڑھتے ہیں وہ اپنی زندگیوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

کچھ لوگ اپنی کتابوں سے حاصل ہونے والے علم کی بدولت مفلسی کے چنگل سے باہر نکل آتے ہیں‘ ذہنی سکون سے مالا مال ہوتے ہیں اور مہلک بیماریوں پر قابو پا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ انہی کتابوں کی بدولت مایوسی کے اندھیروں سے نکل آتے ہیں اور اپنی زندگیاں نئے ولولے اور جوش کے ساتھ نئے سرے سے شروع کرتے ہیں۔ کچھ لوگ انہی کتابوں سے سیکھتے ہیں کہ انسانوں سے محبت کرنا اور ان کی خدمت کرنا زندگی کا اصل مقصد ہے۔ کچھ لوگ انہی کتابوں کی بدولت منفرد سوچ اور تخلیق کے رازوں سے آشنا ہوتے ہیں۔

کوئی بڑی کتاب ہماری زندگی کو کسی حد تک متاثر کر سکتی ہے، اس کی شاندار مثال لیسا کی کہانی ہے۔ لیسا کی عمر 22 سال تھی اور وہ ایک کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر تھی۔ اس کی ملازمت اچھی تھی لیکن وہ سمجھتی تھی کہ اس ملازمت میں اس کی پوری شخصیت کا اظہار نہیں ہو رہا۔ وہ سوچتی تھی سکول کے زمانے میں وہ اس سے کچھ مختلف بننے کا خواب دیکھتی تھی یا اس کے قریبی لوگ اسے کسی مختلف شخصیت کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ یہی سوچ اسے اپنی زندگی کے مقصد کی تلاش پر مجبور کرتی رہتی تھی۔ وہ کمپنی میں اپنی ایک سینئر خاتون سے بڑی متاثر تھی، اس خاتون کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ اور اطمینان اسے بہت متاثر کرتا تھا۔ سینئر خاتون نے لیسا کو سٹیفن کووے کی کتاب ’’پر اثر لوگوں کی سات عادات‘‘ پڑھنے کا مشورہ دیا۔

اس کتاب نے لیسا کو ایک مختلف انداز سے جینا سکھایا دیا۔ سٹیفن کووے کے مشورے کہ اپنی زندگی کا انجام ذہن میں رکھ کر زندگی گزاری جائے نے اسے بہت متاثر کیا۔ وہ اس بات پر سوچنے لگی کہ مرنے کے بعد لوگ اسے کن کامیابیوں کے حوالے سے یاد رکھیں گے۔ اس نے سیکھ لیا تھاکہ وہ صرف وہی کام کرے گی جو اس کے لئے اہم ہیں۔ اس نے اپنی پوری زندگی کا جائزہ لیا اور اپنی کئی خواہشات اور منصوبوں کو ترک کر دیا۔ اس نے اپنے اندر کی آواز محسوس کی تو اسے لگا کہ سافٹ ویئر انجینئر کے بجائے موٹیویشنل سپیکر بننا اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ آنے والے برسوں میں اس نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں ولولہ‘ جوش اور امید کی روشنی پیدا کی۔ وہ اپنا ہر دن اس طرح گزارتی رہی جیسے وہ چاہتی تھی کہ دنیا اسے یاد رکھے۔

لیسا کی زندگی میں تبدیلی لانے والی کتاب سات عادات بیسویں صدی میں لکھی گئی اہم کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ دیانتدارانہ اور پروقار زندگی گزارنے کا پیغام دیتی ہے۔ معروف مصنف انتھونی رابز نے اس کے بارے میں کہا یہ کتاب ضرور خریدیں لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اسے استعمال بھی کریں۔ کسی بڑی کتاب کی سچائیوں کا اطلاق اپنی زندگی پر کرنا دشوار ہوتا ہے۔ سات عادات کے مصنف نے خود اقرار کیا کہ اپنی اس کتاب میں میں نے جو باتیں لکھی ہیں ان پر عمل کرنے کے لئے مجھے خود بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن یہ محنت ضروری بھی ہے اور اطمینان بخش بھی، یہ میری زندگی کو معنی دیتی ہے۔

جب آپ پڑھیں تو اپنے سامنے کوئی واضح مقصد بھی رکھیں، اسی صورت میں پڑھنا ہمارے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔ ڈیل کارنیگی اپنی عظیم کتاب ’’پریشان ہونا چھوڑیئے اور جینا شروع کیجئے‘‘ میں اپنے قارئین کو یہی مشورہ دیتا ہے۔ اپنی کتاب کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس کتاب کے پانچ باب پڑھ جایئے، اگر انہیں پڑھنے کے بعد آپ کو اپنے اندر ایک نئی قوت کا احساس نہ ہو جس سے آپ اپنی پریشانیوں پر قابو پا سکیں اور آپ کے دل میں نئی زندگی کی تڑپ پیدا نہ ہو تو اس کتاب کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیجئے۔ یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں۔ مصنف کے خیال میں اگر قارئین پرانی عادات کو چھوڑ کر نئی زندگی اپنانا نہیں چاہتے تو کتاب ان کے لئے کسی طرح کار آمد ثابت نہیں ہو گی۔

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک بیٹ سیلر کتاب پڑھی، اس میں مصنف اپنے قاری کو بڑا کارآمد مشورہ دیتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک وقت میں قاری کتاب کا ایک باب پڑھے‘ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اگلا باب پڑھے۔ اس طرح اسے یہ سوچنے کا وقت ملے گا کہ کتاب اس سے کسی قسم کی تبدیلی کا تقاضا کر رہی ہے۔ مصنف کا کہنا تھا کہ کتاب کو اس طرح پڑھیں کہ آپ کتاب کے ساتھ Interact کریں۔ اس کے اہم جملوں کو انڈر لائن کریں اور پڑھتے ہوئے اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو حاشیے میں تحریر کرتے جائیں۔

ایک دلچسپ حکایت ہے کہ ایک شخص دانائی اور بصیرت کے حصول کے لئے ایک درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس شخص نے اپنا مدعا پیش کیا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی اور جواب کا انتظار کرنے کے بجائے بولتا رہا۔ درویش خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ اسی دورن درویش نے اس کے پیالے میں چائے ڈالنا شروع کی، پیالہ بھر گیا لیکن درویش اس میں چائے ڈالتا رہا۔ یہاں تک کہ چائے باہر گرنے لگی، وہ شخص چلانے لگا یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ پیالہ بھر چکا ہے اور آپ اس میں چائے ڈالتے جا رہے ہیں۔ درویش نے کہا جب تک تم اپنے ذہن کے پیالے کو خالی نہیں کرو گے کچھ نہیں سیکھ پاؤ گے۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ کچھ نیا جاننے کے لئے ذہن کو پہلے سے قائم شدہ تصورات سے خالی کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

آپ اس بات پر بھی غور کریں سکولوں اور کالجوں میں طالب علموں کو ایک طویل عرصے تک اعلیٰ ادب پڑھایا جاتا ہے۔ اس کوشش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ عملی زندگی میں بھی اعلیٰ ادب کی سچائیوں سے فیض یاب ہوتے رہیں۔ لیکن عملی زندگی میں ان کی اعلیٰ ادب سے دلچسپی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ پوری زندگی کوئی اچھی کتاب کھول کر بھی نہیں دیکھتے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ طالب علم صرف مجبوری کے باعث کتابیں پڑھتے ہیں۔ تعلیمی ادارے طالب علموں کا کتابوں سے دیرپا تعلق پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ مطالعہ کو مؤثر بنانا اور اس سے زندگی بہتر بنانا خود ہمارے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ اگر ہم خود بدلنے کے لئے تیار نہ ہوں تو کوئی بڑی سے بڑی نصیحت بھی ہمارے لئے کارگر ثابت نہیں ہو گی۔

عاطف مرزا

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے