کیریئر کا چناؤ!

اپنے کیریئر کا چناؤ کرنا واقعی میں اتنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر ان کے لیے جو اپنی صلاحیتوں اور کمزوریوں سے واقف نہ ہو۔ کبھی اس اہم ترین کام کی طرف سنجیدگی سے دھیان ہی نہ دیا ہو، بس دیکھا دیکھی پڑھائی کی اور جو ملازمت مل گئی اسی میں لگ گئے۔

کیا میری پڑھائی، کیا میرا روزگار میری صلاحیتوں کے مطابق ہیں ؟ یہ وہ اہم سوال ہے جس پر غوروفکر بہت ہی ضروری ہے۔ ہم اپنا وقت اس سوچ و مشوروں کے حصول میں تو گزار دیتے کہ ہم آنے والی چھٹیاں کہاں مزے سے گزاریں؟ کون سا پہناوا ہم کو اچھا لگے گا؟ ہم اپنے گھر اور کمرے کو کس طرح سجائیں؟ وغیرہ … مگر کیریئر کے چناؤ والے اہم کام کو بنا سوچے سمجھے، بس دیکھا دیکھی کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر حد سے زیادہ ڈپریشن، ذہنی دباؤ، چڑچڑے پن، غصے کے ساتھ سب کچھ قسمت کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔

مگر صاحبو! ہم میں سے ہی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جوکیریئر کے چناؤ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ وہ وقتی طور پر، مجبوری کی وجہ سے صلاحیتوں کے برعکس پڑھائی و روزگار اختیار کر لیتے ہیں مگر ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ٹھیک ٹریک پر لانے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جلد ہی اپنی صلاحیتوں کے مطابق کیریئر لائن میں آ جاتے ہیں اور بہت جلد کامیابیاں سمیٹنا شروع کر دیتے ہیں وہ بھی مکمل ذہنی سکون کے ساتھ۔ اس معاملے میں والدین اور اساتذہ کرام کی دلچسپی کا بہت کردارہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر تعلیمی اداروں اور گھروں میں ہی ایسی رہنمائی میسر آ جائے تو ہمارے نوجوان کیریئر کے معاملے میں کنفیوز نہ ہوں؟ میں آپ کے سامنے آج ان صرف 5سوالوں کو رکھوں گا جن کا جواب آپ نے تلاش کرنا ہے۔ مجھے بہت امید ہے ان شاء اللہ کہ ان سوالوں کے جواب کی کھوج کی صورت میں آپ کو اپنے کیریئر کے چناؤ میں بہت حد تک رہنمائی ملے گی۔ چلیں پھر تیار ہو جائیں میرے اگلے تمام الفاظ کو بغورپڑھنے و سمجھنے کے لیے تاکہ آپ کے لیے اس آرٹیکل کو پڑھنا مفید ہو۔ ان شااللہ!

کیا میرے کیریئر کا راستہ” واضح” طور پر مجھے دکھائی دے رہا ہے؟

سب سے پہلے آپ نے اپنے دل ودماغ سے اس کا جواب تلاش کرناہے کہ میں جانا کس راستے پر چاہتا ہوں؟ کس رستے کا انتخاب میری طبیعت، ماحول، خاندانی روایات، وغیرہ کے مطابق ہے؟ کوئی رکاوٹ اگر ہے تو کیا اس کا حل نکل سکتا ہے؟ ہم واضح ہونے میں اس لیے اکثر ناکام ہو جاتے ہیں کہ ہم صرف وقتی علم، حالات وواقعات کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، دور اندیشی سے کام نہیں لیتے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ آپ نے آنے والی زندگی کے بہت سارے سال کیریئر کی تکمیل میں صرف کرنے ہیں تو شروع سے ہی دماغ میں راستہ واضح ہونا لازمی ہے۔ اگر فلاں فلاں مشکل سامنے آ گئی تو کیسے حل کریں گے ؟پہلے اپنے آپ کو سچائی کے ساتھ، حقیقت پسندانہ طور پر وضاحت دیتے قائل کریں۔اپنی فیملی اور قریبی احباب سے مشورہ کریں۔

کیا آپ کی کیریئرلائن دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گی؟

جہاں یہ سوچنا ضروری کہ ہماری صلاحیتوں کے مطابق ہمارا راستہ ہو وہیں یہ بھی سوچیں کہ کیا وہ دوسرں، خاص کر اپنوں کے لیے مفید ہے ؟کیا لوگ دلی طور پر آپ کو سراہیں گے کہ آپ ان کے لیے بھی مفید ثابت ہو رہے ہیں؟ اس سے ان کوآپ کی مفت خدمات حاصل ہوں، آپ کا کام ان کے لیے فخر کا مقام ہو۔ کیا اس سے آپ ان کی مالی واخلاقی مدد کر سکتے ہیں؟ شروع میں نہ سہی مگر کچھ سالوں بعد کیا آپ اتنا اچھا کما سکتے ہیں کہ آپ خوش دلی سے دینے والا ہاتھ بن جائیں؟

کیا آپ کی کیریئر لائن مثبت طور پر یاد رکھے جانے کے قابل ہے؟

ہم تما م اچھے مشہور لوگوں کو اس لیے یاد رکھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ ایسا کمال کیا ہوتا ہے جو انسانیت کے لیے آسانی و بھلائی کا درجہ رکھتا ہے۔ کیا آپ ایسا نہیں چاہتے کہ آپ کی کیریئر کا منتخب کردہ رستہ ایسا ہو جو آپ کو زبردست و بہترین پہچان دے ؟لوگ آپ کو آپ کے بہترین کام کی وجہ سے جانیں، عزت و احترام کریں۔ آپ کا خاندان، دوست، احباب آپ کے ساتھ تعلق میں خوشی محسوس کریں۔ اس سے آپ خود کو اندرونی طور پر ہمیشہ حوصلہ افزا محسوس کریں گے۔ آپ کا کام آپ کی مثبت پہچان بن جائے، اسی حوالے سے آپ احتراماً یاد رکھے جا سکیں۔

کیا آپ مستقل مزاجی سے اپنے اس کیریئر کے راستے پر رہ سکتے ہیں؟

آپ کے اندر شوق کتنا ہے ؟ نیا نیا یا صرف وقتی ابال تو نہیں؟ کیونکہ آپ اپنے کیریئر میں اسی وقت کامیاب ہو سکتے جب آپ جلد بازی نہ کریں، صبر وتحمل کے ساتھ اپنی کیریئر لائن ساتھ جڑے رہیں۔ ساتھ ساتھ نظم وضبط کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ نہیں کہ فوری نتیجہ نظر نہ آئے تو چھوڑ چھاڑ کر کسی اور راستے پر چل دیے؟ مستقل مزاجی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو اپنا کام کرتے مزہ آتا ہو، پوری دلجمعی سے، توجہ سے کرتے ہوں، وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہو۔

کیا میرا کیریئر مرنے کے بعد بھی زندہ ِجاوید رہے گا؟

اپنے آپ سے یہ سوال کرنا بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ کیا آپ اپنے کام کی بدولت کچھ ایسا شروع کر سکتے ہیں جو آپ کے نہ ہونے پر بھی دوسروں کو فائدہ دیتا رہے؟ آپ اپنی زندگی میں دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اپنے کام کو ایسا سیٹ کریں کہ جس سے آپ کی نسلوں تک کو فائدہ ہو۔ آپ کا نام و پہچان آپ کے جانے کے بعد بھی جگماتا رہے۔ لوگ دعا گو رہیں۔

تو دوستو! نے ان اہم سوالوں کو مختصراً بیان کر کے سمجھانے کی کوشش کی ہے، جب آپ ان پر غوروفکر کریں گے تو مزید پہلو بھی ذرا کھل کر آپ کے سامنے آیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ بالکل ضروری نہیں کہ آپ فوراًاپنے من چاہے کیریئر میں آ جائیں، کیا پتا آپ کودوسرے مختلف پیشوں و راستوں سے ہو کر آنا پڑے، کو ئی نئی تعلیم و ہنر سیکھنا پڑے، کسی دوسرے شہر یا ملک وقتی ہجرت کرنی پڑے، اس لیے گھبرانا نہیں ہے، یہ سوالات خود سے کرتے جائیں بس۔ سچی طلب رکھتے کوشش کرتے رہیں گے تو اپنے اچھے وقت پر ضرور اپنے ذوق وشوق والے کیریئر میں آ جائیں گے، ان شاء اللہ۔ اور ہاں! ایک آخری بات کہ یہ تو بالکل بھی نہیں سوچنا کہ اب عمر بہت ہو چکی، بہت ناکامیاں ہو چکیں، بہت تھکن ہو گئی، وغیرہ وغیرہ۔ اس فقرے کو پلے باندھ لیں کہ

Never stop dreaming and trying, Life can go from Zero to one hundred really quick.

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے