خلائی مشاہده

موجوده زمانےمیں جو نئی چیزیں وجود میں آئی ہیں، ان میں سے ایک چیز وه ہے جس کو خلائی سفر کہا جاتا ہے- بہت سے لوگ راکٹ کے ذریعے خلا میں گئے اور وہاں سے مخصوص دوربینوں کے ذریعے انهوں نے زمین کا مطالعہ کیا- ان لوگوں نے اپنے خلائی مشاہدے کی بنیاد پر بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں- ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ ایک خلا باز نے کہا کہ خلائی سفر کے دوران انهوں نے یہ تجربہ کیا کہ وسیع خلا میں کہیں بهی زمین جیسا کوئی کره موجود نہیں- زمین پر لائف ہے اور اسی کے ساتھ اعلی پیمانے پر لائف سپورٹ سسٹم بهی- یہ دونوں چیزیں زمین پر انتہائی موزوں اور متناسب انداز میں پائی جاتی ہیں- ایک خلا باز نے زمین کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے هوئے کہا —— صحیح قسم کا سامان صحیح جگہ پر :

Right type of material at right place.

زمین کی یہ انوکهی صفت ہے کہ یہاں زندگی پائی جاتی ہے، یہاں چلتا پهرتا انسان موجود ہے، مگر اس قسم کی زندگی کی موجودگی کوئی ساده بات نہیں- اس کے لیے دوسرے ان گنت اسباب درکار ہیں- ان اسباب کے بغیر زندگی کا وجود اور بقا ممکن نہیں- زمین، اس اعتبار سے وسیع کائنات میں ایک انوکها استثنا ہے- یہاں استثنائی طور پر انسان موجود ہے اور اسی کے ساتھ یہاں اس کے وجود اور بقا کے لیے انتہائی متناسب انداز میں تمام سامان حیات موجود ہے-

وسیع کائنات میں یہ بامعنی استثنا بلاشبہہ ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت ہے، اور جہاں ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت موجود هو، وہاں ایک صاحب اراده اور ایک صاحب تخلیق ہستی کا وجود اپنے آپ ثابت هو جاتا ہے

مولانا وحیدالدین خان

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے