ٹینشن

وہ تپتی دھوپ میں چلتا جارہا تھا۔ حلق کانٹوں سے سوکھ رہا تھا  ۔  نیچے ریت کا سمند ر گرم ہوا کی موجیں اچھا ل رہا تھا اور  اوپرآسمان آگ کے اولے برسائے دے رہا تھا۔ وہ اپنا بدن کسی مستقر کی تلاش میں جھلسا  ئے دےرہا تھا  لیکن کوئی ٹھکانا سامنے نہ تھا۔ دور ایک کتا نظر  آیا جو گرمی سے بچنے کے لئے ایک  تنگ سے غار میں گھسنے کی کوشش کرہاتھا ۔ اس کا دل چاہا کہ وہ بھی کتا بن جائے اور سکون سے غار  کی آغوش  میں پنا ہ لے لے۔پسینے بہنے کی وجہ سے بدن میں کمزوری اور  اعصاب  پر چڑچڑاہٹ سوار ہوچکی تھی۔ منزل کا دور دور تک پتا نہ تھا اور راہ میں کوئی شجر سایہ دار بھی نہیں تھا۔ اچانک اس کا دماغ بہک گیا۔”خدا نے مجھے کیوں پیدا کیا ؟” یہ سوال خنجر کی طرح اس کے ذہن کو کچوکے لگانے لگا۔ پھر اس کے ذہن میں ماضی کی داستان فلم کی طرح چلنے لگی۔

"میرے پیدا ہونے سے قبل ہی  باپ چھن گیا، ماں غربت کی چکی میں پستے پستے دنیا سے چلی  گئی،میں نے چچا کے گھر تربیت پائی اور چچی کے مظالم برداشت کئے۔بڑا ہو ا تو مزدوری شروع کی اور بدن کو تپتی دھوپ میں جلا کر دو وقت کی روٹی کا بندوبست کیا، اب مجھے اپنے بیٹی کی شادی کرنی ہے اور بچوں کا پیٹ پالنا ہے اور صحت ہے کہ جواب داغ مفارقت دیتی نظر آرہی ہے؟ "۔

وہ یہ باتیں سوچتا آگے بڑھتا رہا ۔ گرمی کی شدت اتنی ہی تھی کہ دور ایک دھبہ سا دکھائی دیا ۔اس نے رفتار تیز کردی۔ جوں جوں وہ نزدیک آتا گیا اس کا امکان قوی ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک نخلستا ن میں داخل ہوگیا۔  یہاں ایک بوڑھا شخص اپنی بکریاں چرارہا تھا۔  بوڑھے نے اس دریافت  کیا ” بھائی کون ہو؟”

” میں ایک مزدور ہوں۔ ساتھ والے گائوں میں اپنی بہن کی خیریت پوچھنے آیا تھا لیکن راستہ بھٹک  کرادھر آگیا”۔ وہ بوڑھا شخص اسے اندر کٹیا میں لے گیا  اور پانی وغیرہ پلایا۔

"پریشان لگ رہے ہو؟” بوڑھے شخص نے استفسار کیا۔ مزدور نے اسے ایک نظر دیکھا تو وہ  بھلا مانس نظر آیا۔ اس نے سوچا کہ کیوں  نہ اپنے دل کے پھپھولے اس کے سامنے پھوڑے جائیں۔ چنانچہ اس نے اپنی مبینہ بد بختی کی داستان اس کے سامنے بیان کردی۔بوڑھے نے اس کا مقدمہ غور سے سنا اور بولا:

” میاں میں تمہیں کوئی لیکچر تو نہیں دونگا بس اتنا بتادو کہ اگر میں تمہاری مشکلات حل کردوں تو کیساہے؟”

مزدور اچھل پڑا  اور بولا۔” وہ کیسے ؟”

"بس ایک جگہ چلنا ہے اور تمام ٹینشن ختم۔ لیکن تمہیں  اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی ” بوڑھے نے کہا ۔

” میں ہر قیمت ادا کرنے کو تیا ر ہوں، بس میری ٹینشن دور ہوجائے ، یہ ماضی کے پچھتاوے اور مستقبل کے اندیشے مجھے تنگ نہ کریں۔” مزدور جوش میں بولا۔

مزدور ساری رات بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہا۔صبح کو جب اٹھا تو بوڑھا شخص تیار تھا۔دونوں پیدل روانہ ہوئے۔ اس نے بوڑھے شخص سے پوچھا ” کہاں چلنا ہے؟” لیکن بوڑھے نے بتانے سے انکار کردیا۔ کچھ دیر بعد ایک ویرانہ آگیا ۔ مزدور نے غور سے دیکھا تو وہ ایک قبرستان تھا۔

” یہ کیا مذاق ہے؟” مزدور نے غصے سے کہا۔

” بیٹا یہی وہ جگہ ہے جہاں ہڈی کے پنجر وں کو نہ ماضی کا پچھتاوا ہے اور نہ مستقبل کا اندیشہ ۔”اگر زندہ رہوگے تو اس کی قیمت تو دینی ہے۔ اور اگر نہیں دوگے تو مرجائوگے۔”

مزدور ایک لمحے کے لئے ٹھٹکا اور پھر تیز تیز قدموں سے واپس ہوگیا   اسی زندگی کی طرف لیکن اس عزم کے ساتھ کے زندہ رہنے  کی قیمت چکانی ہے۔

پروفیسر محمد عقیل

 

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے