کولیسٹرول کنٹرول کریں!

خون میں اگر کولیسٹرول کی سطح ضرورت سے زیادہ ہو تو اس سے بہت سی بیماریاں بالخصوص امراض قلب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کی سختی سے تاکید کرتے ہیں۔یوں تو اس کے لیے کئی طریقے آزمائے جاتے ہیں جن میں دواؤں کا استعمال بھی شامل ہے،

لیکن دواؤں کے بغیر کچھ گھریلو طریقے آزما کر بھی کولیسٹرول کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔یہ ایک چکنائی نما چیز ہے جو ہمارے جسم،خصوصاً خو ن میں موجود ہوتا ہے۔ہمارے جسم میں جگر کولیسٹرول تیار کرتا ہے،کچھ ہم غذاؤ ں کے ذریعے بھی ہضم کرتے ہیں۔ہمارے جسم کو صحت مند طور پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے کولیسٹرول کی ضرورت تو ہوتی ہے ،

لیکن جب جسم اور خون میں اس کی مقدار حد سے زیادہ ہو جائے تو یہی کولیسٹرول ہمارے لیے بڑے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔خون میں اس کی زیادتی سے ہماری شریانیں سخت ہو جاتی ہیں اور ان کی اندرونی دیواروں کے ساتھ اس کے چپکنے سے خون کی گزر گاہ تنگ ہو جاتی ہے،اور جسم کے مختلف حصوں کو مناسب مقدار میں خون کی فراہمی ممکن نہیں رہتی۔جس سے صحت کے مختلف مسائل سامنے آتے ہیں۔ان کا ٹھیک وقت پر علاج نہ کرنا دل کی بیماریوں اور ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے۔

مرد حضرات کے لیے کولیسٹرول کی سطح190سے زیادہ جبکہ خواتین کے لیے 178سے تجاوز کر جانا خطرناک سمجھی جاتی ہے۔بنیادی طور پر دو قسم کے کولیسٹرول ہوتے ہیں۔ایک صحت کے لیے مفید یعنیHDLجبکہ دوسرا مضر صحت LDL کولیسٹرول ہے۔صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح گھٹانے اور مفید کولیسٹرول کی سطح بڑھانے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ان میں سے بعض آپ اپنی صحت کی خاطر تبدیل کر سکتے ہیں جبکہ کئی عوامل ایسے ہیں جن پرآپ کا کوئی زور نہیں چلتا۔طرز زندگی سے متعلق جتنے عوامل ہیں ان پر قابو پایا جا سکتا ہے مثلاً ناقص غذا کا استعمال ،ورزش سے جی چُرانا،سگریٹ نوشی یا موٹاپا ان سب پر قوتِ ارادی کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔

جبکہ موروثی یا جینیاتی خصوصیات وہ عوامل ہیں جنہیں تبدیل کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہوتا۔خون میں اگر کولیسٹرول کی زیادتی ہو جائے تو قدرتی طور پر ایسی بہت سی چیزیں موجود ہیں جو ہمارے جسم پر مفید اثرات ڈالتی ہیں۔جیسا کہ پولیکوسانول: قدرتی طور پر دستیاب ہونے والا یہ ایک کنا مادہ ہے جو گنا،چاول کی پھوک اور شہد کی مکھی کے چھتے میں موجود موم سے حاصل کیا جاتا ہے۔یہ مادہ خراب کولیسٹرول کی سطح گھٹاتا اور بہتر کی سطح کو بڑھاتا ہے۔ بایو فلیو وینو ئڈز: رس دار پھلوں مثلاً کینو،موسمی اور چکوترے وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ سبز چائے میں بھی اس کی وسیع مقدار پائی جاتی ہے ،جو جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو نارمل رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ فائٹو سٹیر ولز: پودوں سے حاصل ہونے والا یہ مادہ معدے اور آنتوں میں کولیسٹرول کے انجذاب کے عمل کو کم کر دیتا ہے۔ ان کے علاوہ کولیسٹرو ل کی سطح گھٹانے کے لیے اپنے وزن اور عمر کے لحاظ سے ایک غذائی چارٹ مرتب کریں ۔

جس میں تما م غذائیت بخش اجزاء شامل ہونے چاہیے۔البتہ ان میں ایسی غذائیں شامل نہ کی جائیں جن سے الرجی ہوتی ہے۔بعض ماہرین کولیسٹرول گھٹانے کے لیے روزانہ صبح ناشتے کے ساتھ دو ٹماٹر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔اس سے قبل بستر سے اٹھنے کے فوراً بعد ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چائے کاچمچ خالص شہدا ور لیموں کے چند قطرے شامل کر کے پینے سے بھی کولیسٹرول کی سطح گھٹ جاتی ہے۔دن میں کبھی چاچھ،لسی یا ناریل کے پانی کا استعمال بھی اس مقصد کے لیے مفید ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کی ایک ترکیب یہ بھی ہے کہ دن بھر تھوڑے تھوڑے وقفے سے کم مقدار میں پانچ چھ بار کھانا کھایا جائے اور رات کا کھانا بستر پر جانے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے کھا لیا جائے۔

Dunya news

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے