“سمر ورک” بے ثمر کیوں؟

تقریبا دس دن بعد گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے والی تھیں اور ہفتہ بھر پہلے انہیں پاکستان کے لئے نکلنا تھا۔ انہوں نے اپنے آفس میں تو چھٹیوں کے لئے درخواست دے دی تھی جو منظور بھی کر لی گئی تھی لیکن بچوں کے اسکول جا کر بات کرنا باقی تھا اور آج ان کا ارادہ وہیں کا تھا۔ وہ صبح خود ہی بچوں کو اسکول لے کر چلے گئے اور ان کی پرنسپل سے ملاقات کرکے درخواست ان کے حوالے کردی۔ پرنسپل نے درخواست پر گہری نظر ڈالی ،مسکرائیں اور بولیں “آپ کل آکر بچوں کا سمر ورک لے جائیں”۔ اگلے دن وہ پھر اسکول میں موجود تھے۔
پرنسپل نے بطور خاص ان کے دونوں بچوں کو بھی وہیں اپنے کمرے میں بٹھا لیا اور ایک لفافہ ان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولیں ” آپ لوگ پاکستان کیوں جانا چاہتے ہیں؟” بچوں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ جواب دیا کیونکہ وہاں ہمارے نانا، نانی، دادا، دادی اور بہت سارے رشتےدار موجود ہیں، ہم وہاں جا کر ان سے ملیں گے اور اپنے کزنز کے ساتھ کھیلیں گے”۔
پرنسپل نے بے ساختہ قہقہہ لگایا اور بولیں “اسی لئے تو ہم نے آپ کو سمرورک دیا ہے”۔ آپ نے پاکستان جاکر اپنے نانا، نانی اور دادا، دادی سے انٹرویوز کرنے ہیں، ان کی بائیوگرافی معلوم کرنی ہے۔ انہوں نے اپنا بچپن کب کہاں اور کیسے گزارا؟ بچپن میں ان کے پسندیدہ کھیل کون سے تھے، روز دن میں کم از کم تین دفعہ ان سے گلے ملنا ہے اور آپ جب جب ان کے گلے لگیں اپنے پاس نوٹ کرلیں۔ ان کے ساتھ ان کی پسندیدہ جگہوں پر گھومنے جائیں، جن محلوں اور علاقوں میں ان کا بچپن اور لڑکپن گزرا ان محلوں میں ان کے ساتھ گھومیں، اپنے شہر کے تاریخی مقامات کی سیر ان کے ساتھ کریں پھر یہ تمام باتیں، ملاقاتیں اور سیر و تفریح کو اپنے الفاظ میں قلمبند کرتے رہیں۔ ان کی ویڈیوز بنائیں اور ان کے انٹرویوز کو ایک فائل میں لگائیں یہ ہے آپ کا “سمر ورک”۔
یہ آسٹریلیا کے ایک اسکول کا بالکل سچا واقعہ ہے جو ایک پاکستانی صاحب نے خود بیان کیا۔آپ ایک طرف ان کی ترجیحات، ان کی ویلیوز اور انکا “سمرورک” دیکھیں اور دوسری طرف اپنی گرمیوں کی چھٹیاں اور ان میں ملنے والے “سمرورک” پر سر پیٹ لیں۔ اول تو میں آج تک یہ “سمرورک” سکی لاجک سمجھنے سے قاصر ہوں۔ جس طرح گدھے کے اوپر سامان لادا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح بچوں پر سمر ورک “لادا” جاتا ہے۔ جس طرح پہلے عزت کے نام پر بچیوں کو دفن کیا جاتا تھا ٹھیک اسی طرح سمر ورک کے نام پر بچوں کی خوشیوں کو دفن کر دیا جاتا ہے اور جس طرح پہلے غیرت کے نام پر قتل ہوتے تھے بالکل اسی طرح گرمیوں کی چھٹیوں کے” کام” کے نام پر بچوں کی خوشیوں کا قتل ہوتا ہے۔ والدین اور خصوصا ماؤں کے ہاتھوں میں بچوں کو بلیک میل کرنے کا ٹول فراہم کردیا جاتا ہے۔
روز اردو اور انگریزی کی کتاب میں سے ایک صفحہ لکھئے۔
ریاضی کے پانچ اسباق کی پوری مشقیں کرکے لائیں۔
سائنس کی تمام خالی جگہ پر کریں۔
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں یہ بچے کے ساتھ ظلم اور زیادتی نہیں ہے؟ ان 60 دنوں میں بچہ اوپر دیے گئے “سمر ورک” سے آپ کے خیال میں کیا سیکھے گا؟ چلیں آپ لکھنے پڑھنے کا کام ہی تھوڑے “ماڈرن وے” میں دے دیں، لیکن کیا بچہ اور اس بچے کی فطرت اس “تعلیم و تحقیق” اور لکھنے پڑھنے کے خشک کام کے لئے آمادہ ہو سکے گی؟ علم کے حصول کے اصل میں پانچ طریقے ہیں اور ہمارا تعلیمی نظام ان پانچوں سے عاری ہیں۔
1) مشاہدہ
2) تجربہ
3) سفر
4) اہل علم کی صحبت
5) کتاب کا مطالعہ
دنیا میں جتنے علوم پیدا ہوئے ہیں، تھیوریز آئیں، سائنسی قوانین وجود میں آئے اور فلاسفرز نے اپنی فلاسفیز دیں۔ ان کے پیچھے یہی پانچ طریقے کارفرما تھے اور ہم بچوں کو سلیبس کی کتابوں کا کیڑا اور لکیر کا فقیر بنا کر ان سے نتائج برآمد کرنا چاہتے ہیں۔ البرٹ آئن سٹائن نے کہا تھا “اس سے بڑا پاگل پن اور کیا ہوگا کہ آپ ایک ہی کام کو بار بار کریں اور نتیجہ مختلف چاہئیں” اور ہم من حیث القوم یہی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
آپ “سمرورک” دیں ضرور دیں لیکن وہ سمر ورک دیں جو بچوں کی زندگیوں میں مثبت نتائج لے کر آئے آپ بچوں سے بولیں کہ ان دو مہینوں میں ابھی پورا رمضان آئے گا، عید گزرے گی۔ اس دوران آپ کے ساتھ بے شمار حسین، خوبصورت اور یادگار لمحات آئیں گے، ہو سکتا ہے کہ کچھ تلخیاں اور سخت باتیں بھی گزریں۔ آپ میں سے بہت سارے بچوں کی روزہ کشائی بھی ہوگی۔ آپ سب کو عیدیاں ملیں گی۔ آپ اپنے رشتے داروں کے گھر ملنے جائیں گے اور بہت سے رشتہ دار آپ کے گھر آئیں گے۔ آپ اپنے تمام تجربے، مشاہدے اور یادگار لمحات اپنی ایک کاپی میں ضرور لکھیں۔ اس پر پانچ منٹ کی پریزنٹیشن بنالیں، تصاویر کو ملا کر کوئی چھوٹی سی ویڈیو تیار کرلیں۔ ان تمام رشتے داروں کے نام تحریر کریں جن سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ کتنی عیدی جمع ہوئی اور آپ نے کن کاموں میں خرچ کی؟ اور کتنی بچائی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں حیثیت کے مطابق بچوں کے والدین کو “ٹاسک” دیں کہ وہ انہیں اگر ہنزہ لے جاسکتے ہیں تو وہاں ورنہ موئن جو دڑو،قائد اعظم ہاؤس یا اپنے شہر میں ہی موجود کسی تاریخی مقام یا میوزیم میں بچوں کو لے کر جائیں اور بچوں سے ان کے تاثرات لکھوائیں۔ ان سے چھوٹی سی ڈاکیومنٹری بھی اس حوالے سے تیار کروائیں۔
پچاس سائنسدانوں کے نام اور ان کے کام جمع کریں، روز دو گھنٹے اپنی فزیکل فٹنس پر لگائیں، کرکٹ، فٹ بال، تیراکی یا جو بھی کھیلیں روزانہ کی بنیاد پر اپنی پرفارمنس اور گراف کا جائزہ لیں کہ کتنی بہتری آئی ہے۔ دو مہینوں میں کم از کم چار کتابوں کا مطالعہ کریں اور ان کے بارے میں اپنے تاثرات لکھیں۔ روزانہ انگریزی کے کم از کم پانچ الفاظ یاد کریں اور انہیں روز کی گفتگو میں استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ قرآن کی کم از کم تین آیات ضروریاد کریں۔
انہیں اپنا روز کا شیڈول بنانا سکھائیں، اپنے منٹ منٹ اور روپے روپے کا حساب لکھنے کی مشق کروائیں۔ نپولین ہل کے الفاظ ہیں کہ “آپ مجھے اپنے پیسے اور وقت کا حساب دے دیں کہ کہاں خرچ کرتے ہیں میں آپ کو آپ کے دس سال بعد کا حساب دے دوں گا کہ آپ کہاں کھڑے ہونگے” اپنے دن کو، ہفتے کو، مہینے کو اور دو مہینے کو پلان کرنا سکھائیں۔ قرآن سے ان کے تعلق کو مضبوط کروائیں۔ کوئی ایک آسان سیرت کی کتاب(محمد عربی صل وسلم) پڑھوائیں۔ گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں ان کا حصہ ڈلوائیں، روزانہ ان کی دلچسپی کے کام سوچ کر رکھیں اور پھر وہی ان سے کروائیں۔ ان کو ہدف دیں کہ وہ اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کریں اور روز کوئی ایک واقعہ ایسا لکھیں جس کے فورا بعد آپ نے اپنے غصے پر قابو پالیا ہو، روز کسی نہ کسی کے کام آنے کی کوشش کریں چاہے وہ بلی کو کھانا ڈالنا ہو ، دادی کے کام کرنے ہوں یا پھر کسی بھوکے کو کھانا کھلانا ہو۔ یہ اور ان جیسے سینکڑوں کام آپ “سمر ورک” میں دے سکتے ہیں۔ ان کی روحانی، جسمانی، دماغی اور قلبی صورتحال کو بہتر کرسکتے ہیں۔ ان کے شوق کی آگ کو بھڑکا کر ان کو ان کے اصل کی طرف لاسکتے ہیں۔ ان دو مہینوں کے بعد انھیں ایک بدلا ہوا انسان، بہترین مسلمان اور معزز شہری بناسکتے ہیں لیکن معذرت کے ساتھ ان بے مقصد، لاحاصل اور فضول قسم کے کاموں سے کوئی امید نہ رکھیں۔
آپ بچے کی زندگی میں سوائے چڑ چڑے پن ، غصے ، تعلیم ، کتابوں، اسکول اور اساتذہ سے نفرت کے سوا اور کچھ نہیں دے سکیں گے۔ عین ممکن ہے کہ اسکولوں اور اساتذہ کا یہ رویہ انھیں اپنے والدین سے بھی باغی کردے۔ اسکولوں کے دیے گئے مقصد سے عاری کاموں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے والدین اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ بچہ بہرحال آپ کا ہے اسکول کی صرف “فیس” ہے۔ وہ فیس کے جوابدہ ہیں، بچے کے نہیں لیکن آپ بچے کے جوابدہ ہیں فیس کے نہیں۔ اسلئیے اسکول پر چڑھائی کرنے سے بہتر ہے کہ خودسے اپنے بچے کی فکر کریں۔کیونکہ بہرحال وہ اکیسویں صدی کے بچے ہیں اور آپ انھیں بیسیویں صدی کے حربوں سے زیادہ عرصہ غلام بنا کر نہیں رکھ سکتے ہیں۔

جہانزیب راضی

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے