قوم کی مایوسی اور اس کا حل

پاکستان کے موجودہ معاشی بحران نے قوم کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔یہ اگر معاشی بحران ہوتا تو بہت غنیمت تھی۔ مگر یہ معاشی بحران نہیں بلکہ اعتباریت کا بحران ہے کہ حکمرانوں کی کس بات کا یقین کیا جائے اور کس کا نہیں۔ مخالفین کو تو چھوڑیے موجودہ حکمرانوں کو ووٹ دینے والے ان کے حامی بھی اب حکمرانوں کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

تاہم اس مضمون میں ہمارے پیش نظر حالات کا کوئی مرثیہ پڑھنا نہیں ہے بلکہ کچھ مثبت باتوں کو سامنے رکھنا اور کچھ اہم اسباق کی طرف توجہ دلانا ہے جو اگر سیکھ لیے جائیں تو ابھی بھی ہمارے حالات بہتر ہوسکتے ہیں اور ہم دنیا کی ایک ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ ہم جس خطے میں رہتے ہیں وہ اپنے وسائل کے اعتبار سے اتنا غیر معمولی ہے کہ معلوم تاریخ میں تقریباً ساڑھے تین ہزار سال کی بدترین لوٹ مار کے باوجود مسلسل سونا اگلتا رہا ہے۔ آریاؤں سے لے کر سکندر اعظم اور افغانوں سے لے کر انگریزوں تک بیرونی حملہ آوروں نے اس بے رحمی سے اس خطے کو لوٹا اور نوچا کھسوٹا ہے کہ کوئی اور خطہ ہوتا تو شاید ویران ہوچکا ہوتا، مگر اس درجہ کی لوٹ مار کے باوجود یہ خطہ آج بھی دنیا کی ایک چوتھائی سے زائد آبادی کو اس کے نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کےہوتے ہوئے بھی وسائل زندگی فراہم کیے ہوئے ہے۔

اس خطے کے اس غیر معمولی پوٹینشل کے باوجود ہمارے انحطاط مسلسل کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم نے سیاست کو تبدیلی کا اصل میدان سمجھ رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی میدان ہو یا معاشی میدان، ان میں تبدیلی سے کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی۔ ہم نے ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان کی شکل میں ایک عظیم معاشی ترقی اور ستر کی دہائی میں بھٹو صاحب کی شکل میں عظیم سیاسی تبدیلی کو دیکھا۔ مگر چونکہ سماج نہیں بدلا تھا اس لیے یہ معاشی اور سیاسی تبدیلیاں مزید تباہی کے سوا کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرسکیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک صرف اسی وقت ترقی کے راستے پر قدم رکھتا ہے جب سماج میں تبدیلی آئے۔ لوگوں کے انداز فکر میں تبدیلی آئے۔ لوگ جذبات کے بجائے اصولوں پر فیصلے کرنے لگیں۔ لوگوں کے لینے اور دینے کے پیمانے ایک ہوں۔ لوگ اپنے تعصبات سے اٹھ کر عدل کی بنیاد پر معاملات کرنے لگیں۔ لوگوں میں اقدار، تعلیم، اخلاقیات، انسانی اور تہذیبی رویوں کی اہمیت کا شعورپیدا ہوجائے۔

ان چیزوں کا اگر خلاصہ کیا جائے تو سماجی تبدیلی کے دو بنیادی میدان سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ لوگ اخلاقی اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے اٹھیں اور اسے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیں۔ دوسرا یہ کہ ہم اپنی عوام کو تعلیم یافتہ بنائیں اور ان کے شعور کو جذباتیت کے بجائے معقولیت کی بنیاد پر استوار کریں گرچہ اس کے علاوہ بھی سماجی ترقی اور تعمیر کے بہت سے میدان ہیں جن پر ہم اپنی تحریروں میں توجہ دلاتے رہتے ہیں، مگر یہی وہ دو بنیادی میدان ہیں جو باقی میدانوں میں بھی بہتری کا سبب بنیں گے۔

ان تمام میدانوں میں کام کرنے کا طریقہ کیا ہے، اس کے لیے سماجی کام کا جو بہترین رول ماڈل ہمارے سامنے ہے وہ عبدالستار ایدھی صاحب کی شخصیت ہے۔ایدھی صاحب نے ہر سیاسی اور معاشی معاملے سے بے نیاز ہوکر خدمت خلق کا کام شروع کیا۔ وہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں خاموشی سے کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سن اسی کی دہائی میں وہ پہلی دفعہ ملکی سطح پر نمایاں ہوئے۔ جس کے بعد انھیں لوگوں کی معاونت میسر آئی اور انھوں نے ایدھی فاؤنڈیشن کی شکل میں ایک بڑا ادارہ بنا دیا۔

نتائج، تحسین، ملامت غرض ہر چیز سے بے نیاز ہوکرمکمل یکسوئی سے انھوں نے جو کام کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خدمت خلق کی ایک ایمپائر کو تشکیل دینے میں کامیاب رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کے لیے بھی ایک رول ماڈل بن گئے۔ آنے والے عشروں میں جب پاکستانی معاشرہ ہر پہلو سے زوال پذیر ہوا، خدمت خلق کا شعبہ وہ واحد شعبہ تھا جس میں ہونے والے کاموں کی نظیر پوری دنیا میں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ یہ سب ایدھی صاحب کے اثرات تھے۔

ایدھی صاحب کا رول ماڈل یہ بتاتا ہے کہ سماجی تبدیلی کا کام کیسے کیا جاتا ہے۔ اس میں دوسروں سے بے پروا ہوکر ایک مقصد کے لیے زندگی لگانی پڑتی ہے۔ خود کو بنیادوں میں دفن کرنا پڑتا ہے۔ پھر کہیں جاکر قومی زندگی کی وہ شاندار عمارت تعمیر ہوتی ہے جس پر آپ کا نام شاید کندہ نہ ہو، مگر اس کی تعمیر میں آپ کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ہمارے نوجوانوں کو سیاست کے بجائے اپنی مرضی کا کوئی بھی میدان چن کر اس کے لیے زندگی لگانی ہوگی۔ تب کہیں جا کر حقیقی تبدیلی آئے گی۔ ہم نے اوپر جو دو میدان بیان کیے ہیں، ہمارے نزدیک وہ بنیادی ہیں۔ لیکن لوگ چاہیں تو دوسرے میدان بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ یہ میدان اتنا سادہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف ایک عوامی انجمن بنا کر زندگی اسی کام میں لگا دیں کہ اس حوالے سے عوامی شعور بیدار کرکے لوگوں کو منظم کرنا ہے۔ یہ بھی بہت بڑی سماجی خدمت ہوگی۔ اس طرح کے دسیوں کام اس بات کے منتظر ہیں کہ لوگ آئیں اور اپنی زندگی لگائیں۔ تب کہیں جا کر یہ معاشرہ بہتر ہونا شروع ہوگا۔

یہ اصول یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ افراد کا معاملہ قیامت کے دن طے کریں گے لیکن قوموں کا محشر یہی دنیا ہے۔ اور قوموں کے بارے میں وہ قرآن میں اصول بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتے جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہ بدلے،(الرعد 11:13)۔ قوم کی حالت افرادِ ملت کا وہ عزم ہی بدل سکتا ہے جس کی تفصیل ہم نے اوپر بیان کی ہے۔

باقی جہاں تک موجودہ سیاسی حالات کا تعلق ہے تواس میں چند اصولی باتیں ہمیں یاد رکھنی چاہئیں۔ پہلی یہ کہ ہزاروں برس کے سماجی ارتقا کے بعد اللہ تعالیٰ نے دنیا کوجمہوریت کا وہ نظام عطا کیا جس میں غاصبوں اور خارجی حملہ آوروں کے بجائے عوام کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب کریں اور جو حکمران ان کی بہتر خدمت نہ کرے، اسے رد کردیں۔

بدقسمتی سے یہاں کے جذباتی عوام نے اللہ کی اس نعمت کا فائدہ اٹھانے کے بجائے حکمرانوں اور سیاسی لیڈروں سے عشق شروع کردیا۔ جس کے بعد لیڈروں نے عوام کے ساتھ وہی کیا جو بے وفا محبوب عاشقوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ عوام کو پہلا سبق یہ سیکھنا چاہیے کہ لیڈروں سے عشق نہ کریں۔ یہ آپ کو برباد کردیں گے۔

دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ جمہوری نظام آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس نظام میں آپ کچھ برس بعد کسی بھی حکمران سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ اگر خوشنما باتیں کرنے والا کوئی فرد یا گروہ اقتدار پر قابض ہوگیا تو عشروں تک آپ کی جان نہیں چھوڑے گا۔ اس لیے حالات سے مایوس ہوکر کبھی کسی ایسے شخص کی بات کو نہ سنیں جوانقلاب اور نظام کی تبدیلی کی باتیں کرکے آپ سے پانچ سال میں حکومت کی تبدیلی کا موقع چھیننا چاہتا ہے۔

تیسرا اہم سبق یہ ہے کہ کبھی اپوزیشن کی کسی احتجاجی تحریک میں شریک نہ ہوں جو وقت سے پہلے کسی حکومت کو گرانے کی کوشش کرے۔ ہم جانتے ہیں ایسی کسی تحریک سے حکمران ہٹ بھی جائیں تب بھی عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ سسٹم کو چلنے دیں۔ اس میں بہتری کی کوشش کرتے رہیں۔ اصلاحات لائیں۔ خرابیوں کو دور کریں۔ لیکن سسٹم کو رکنے نہ دیں۔ اسی میں خیر ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ مایوسی کو ایک کونے میں رکھیے۔ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اس سے توفیق طلب کریں۔ اور دوسرے کو چھوڑ کر اپنے حصے کا کام شروع کردیں۔ اگر خود کچھ کام کرنے کی ہمت اور صلاحیت نہیں تو جو لوگ یہ کام کررہے ہیں ان کا ساتھ دیجیے۔ قومیں ایسے ہی بنتی ہیں۔ قومیں ایسے ہی مایوسی کے بھنور اور بدحالی کے گرداب سے نکلتی ہیں۔

یہ نہ سوچیں کہ مجھ اکیلے سے کیا ہوگا۔ جب ایدھی جیسا غریب اورکمزور شخص ایک سماجی انقلاب لاسکتا ہے تو آپ سب ان سے زیادہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہیں۔ اٹھیے! وقت آپ کا منتظر ہے۔

Inzaar.pk

 

کچھ مصنف کے بارے میں

naveed

تبصرہ کیجیئے

تبصرے کے لئے یہاں کلک کیجیئے