دعوت کی طاقت

تیرھویں صدی میں وسط ایشیا(Central Asia) میں خوارزم کی حکومت تھی۔ منگول سردار چنگیز خاں نے اپنا سفیر سلطان علاءالدین شاہ کے دربار میں بھیجا۔سلطان نے کسی غلط فہمی کی بنا پر تاتاری سفیر کو قتل کردیا۔اس کے بعد چنگیز خان کا غصہ بھڑک اٹھا۔ اس نے قبائل کی فوج کے ساتھ مسلم سلطنت پر حملہ کردیا، اور اس کے پوتے ہلاکو خاں نے تکمیل تک پہنچایا۔ اور سمرقند سے لے کر حلب تک مسلم دنیا کو تاراج کردیا۔
مورخ ابن اثیر نے اس واقعہ کو مسلم تاریخ کا سب سے بھیانک واقعہ قرار دیا ہے۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں جوابی کارروائی کا ذہن ابھرا۔ سیاسی سرگرمیاں تیزہو گئیں۔ یہاں تک کہ 1260 میں عین جالوت کی لڑائی پیش آئی۔اس لڑائی سے اس وقت کے مسلمانوں کو جزئی فائدہ ہوا، لیکن وہ تاتاریوں کو مسلم دنیا سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ مسلم دنیا میں یہ کہا جانے لگا : من حدثکم أن التتر انہزموا وأسروا فلا تصدقوہ (الکامل فی التاریخ، 10/353) ۔ یعنی جو تم سے بیان کرے کہ تاتاری شکست کھاگیے اور قید کرلیے گیے تو اس کی تصدیق نہ کرو۔
اس زمانے میں کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا، جو شعوری اعتبار سے مسلمانوں کو ری پلاننگ کا پیغام دے۔ تاہم حالات کا دباؤ (pressure) بھی ایک معلم ہوتا ہے۔ چنانچہ حالات کا معلم ظاہر ہوا، اور ایسے اسباب پیدا ہوئے ، جن کے نتیجے میں اس زمانے کےمسلمانوں میں ایک نیا خاموش عمل (process) جاری ہوگیا۔ یہ عمل اگرچہ بظاہر حالات کا نتیجہ تھا، لیکن عملا ًوہ وہی چیز بن گیا جس کو ہم نے ری پلاننگ کہا ہے۔ یعنی بے فائدہ جنگ کو چھوڑ کر پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کرنا۔
اس موضوع پر برٹش مصنف ٹی ڈبلیو آرنلڈ (–1864-1930) نے گہری تحقیق کی ہے۔ طویل تحقیق کے بعد انھوں نے ایک کتاب لکھی، جو 388 صفحات پر مشتمل ہے اور پہلی بار 1896 میں چھپی۔
پروفیسر آرنلڈ نے اپنی اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح حالات کے دباؤ کے تحت اس وقت کے مسلمانوں میں عملا ًایک نیا ذہن ابھرا۔ یہ مسلح جنگ کے بجائے پر امن دعوت کا ذہن تھا۔ پر امن دعوت کا کام بڑے پیمانے پر تاتاریوں کے درمیان ہونے لگا۔جو آخر کار اس درجے تک پہنچا کہ منگولوں (تاتاریوں) کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فلپ کے ہٹی(Philip K Hitti) نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہوچکے تھے:
The religion of the Moslems had conquered where their arms had failed. (1970, p. 488)
پروفیسر حتی کی بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے — مسلمانوں کی پہلی پلاننگ جہاں ناکام ہوگئی تھی، اس کی دوسری پلاننگ نے وہاں کامیابی حاصل کرلی۔ یہ دوسرا پراسس اس واقعہ سے شروع ہوا جس کو پروفیسر آرنلڈ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
This prince, Tūqluq Timūr Khān (1347-1363), is said to have owed his conversion to a holy man from Bukhārā, by name Shaykh Jamāl al-Dīn. This Shaykh, in company with a number of travellers, had unwittingly trespassed on the game-preserves of the prince, who ordered them to be bound hand and foot and brought before him. In reply to his angry question, how they had dared interfere with his hunting, the Shaykh pleaded that they were strangers and were quite unaware that they were trespassing on forbidden ground. Learning that they were Persians, the prince said that a dog was worth more than a Persian. “Yes,” replied the Shaykh, “if we had not the true faith, we should indeed be worse than the dogs.” Struck with his reply, the Khan ordered this bold Persian to be brought before him on his return from hunting, and taking him aside asked him to explain what he meant by these words and what was “faith.” The Shaykh then set before him the doctrines of Islam with such fervour and zeal that the heart of the Khān that before had been hard as a stone was melted like wax, and so terrible a picture did the holy man draw of the state of unbelief, that the prince was convinced of the blindness of his own errors, but said, “Were I now to make profession of the faith of Islam, I should not be able to lead my subjects into the true path. But bear with me a little; and when I have entered into the possession of the kingdom of my forefathers, come to me again.” Later he accepted Islam. (London, 1913, pp. 180-81)

ازقلم: مولانا وحیدالدین خان

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x