کبھی ہم بھی ایسے تھے؟

قاضی شریک بن عبید اللہ بن الحارث النخعی مشہور عالم اور فقیہہ ہیں- وه بخارا مین پیدا هوئے- کوفہ میں 177 هہ میں ان کی وفات هوئی- خلافت عباسی کے زمانہ میں 153 هہ میں وه کوفہ کے قاضی مقرر هوئے-

قاضی شریک کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک عورت ان کے پاس یہ شکایت کے کر آئی کہ کوفہ کے حاکم موسی بن عیسی(خلیفہ مہدی کے چچا) کے ہاتھ جب وه اپنا باغ فروخت کرنے پر راضی نہیں هوئی تو انهوں نے اپنے غلاموں کو حکم دیا اور انهوں نے باغ کے حدود اور نشانات مٹا دیے اور اس کو امیر موسی کے باغ میں ملا دیا-

قاضی شریک نے امیر موسی کے یہاں کہلوایا کہ وه عدالت میں عورت کے ساته حاضر هوں- امیر نے کوفہ کے پولیس افسر کو قاضی کے پاس بهیجا تاکہ وه ان سے گزارش کریں کہ وه اس معاملہ میں دخل دینے سے باز رہیں- قاضی نے افسر کو پکڑ کر قید کر دیا- جب امیر موسی کو اس کی خبر هوئی تو انهوں نے بعض درمیانی افراد کو بهیجا- انهوں نے قاضی کو ان کے اس فعل پر ملامت کی-

قاضی شریک نے ان لوگوں سے کہا کہ امیر نے کیوں اپنے آپ کو عدالت کی حاضری سے بالاتر سمجها- کیا عدالت صرف عوام کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہے- عدالت بلاشبہ بڑے اور چهوٹے کے درمیان فرق نہیں کرے گی- اور تم نے عدالت کے معاملہ میں مداخلت کی ہے- ضروری ہے کہ تم کو اس کی سزا دی جائے- پهر قاضی نے ان لوگوں کو قید کرنے کا حکم دے دیا- اس کے بعد امیر موسی اپنے محافظ سواروں کے ساته قید خانہ گئے اور قیدیوں کو بزور اس سے نکال دیا-

اس کے بعد قاضی شریک سفر کر کے بغداد گئے- تاکہ خلیفہ مہدی سے ملیں اور اس سے یہ کہیں کہ وه ان کو قضاء کے عہده سے الگ کر دے- انهوں نے خلیفہ سے کہا : خدا کی قسم، میں نے بنو عباس سے قاضی کا عہده نہیں مانگا تها، خود انهیں نے مجهہ کو یہ عہده قبول کرنے پر مجبور کیا، اور انهوں نے هم سے وعده کیا تها کہ هم با اختیار اور آزاد هوں گے- اگر هم کو قاضی بنایا گیا تو هم اپنے فیصلے پوری طرح عدل کے مطابق کریں گے- مگر اب قاضی کے عہده پر باقی رہنے کی کوئی صورت نہیں ہے جب کہ هم دیانت دارانہ فیصلہ کرنے میں بے بس ہیں-

پهر امیر موسی نے قاضی سے ملاقات کی اور ان سے مہربانی کی درخواست کی- قاضی شریک نے کہا کہ میرے نزدیک اس کا حل صرف یہ ہے کہ وه تمام لوگ دوباره قید خانہ میں لوٹائے جائیں جن کو قید کیے جانے کا میں نے حکم دیا تها- چنانچہ امیر موسی نے مجبور هو کر تمام لوگوں کو دوباره قید خانہ میں واپس کیا- اور خود عورت کے ساتھ عدالت میں حاضر هوئے- پهر قاضی شریک نے یہ فیصلہ دیا کہ آمیر موسی عورت کے باغ کو لوٹائے اور جو حدود اور نشانات ڈها دیے گئے تهے ان کو دوباره قائم کرے- چنانچہ اس حکم کا نفاذ کیا گیا-

ازقلم: مولانا وحیدالدین خان

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x