سستی بجلی پیدا کرنےکا سستا طریقہ!

  1. چین کے ایک وسطی صوبے ہینان. Henan کے دارالخلافہ چنگ جَو zhengzhou. کے جنوب میں ڈیڑھ سو کلومیٹر دور ایک بہت بڑی تانبے کی فیکٹری جاتے راستہ میں نانیانگ Nanyang کے علاقہ سے گذر ہوا. بہت خوبصورت پہاڑوں کے درمیان کے درمیان میں زبردست سڑک پر جاتے ہوئے تاحد نگاہ پون چکیوں کی قطاریں دیکھ کر بہت زبردست احساس ہوا.

تاحد نظر پھیلے سرسبزپہاڑوں میں خراماں خراماں چلتی دیو قامت سفید براق پون چکیاں کسی دیومالائی کردار کا روپ لگ رہی تھیں. جب واپسی پر ہم نے تجسس سے پون چکیوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو ہوشربا اعدادوشمار حاصل ہوئے.

معلوم یہ ہوا کہ ہواؤں سے بجلی بنانے والی پون چکیاں دنیا بھر میں توانائی فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں. دنیا میں استعمال ہونے والی کل بجلی کا قریب بیسواں حصہ پون چکیوں سے آتا ہے. ڈنمارک اپنی کل بجلی کا اکتالیس فیصد پون چکیوں سے حاصل کرتا ہے.جبکہ آئرلینڈ اٹھائیس فیصد اور جرمنی اکیس فیصد بجلی. دنیا بھر میں کل 650000 میگاواٹ بجلی پون چکیوں سے حاصل ہوتی ہے. سال 2020 میں چین نے 480 ٹیراواٹ آور توانائی ہواؤں سے حاصل کی. جس کی مالیت چین میں بجلی کے نرخ کے حساب سے دوسودس ارب ڈالر بنتی ہے. پاکستان کے نرخ کے حساب کیلئے تین سے ضرب دے لیجیے.

نانیانگ کا یہ خوبصورت علاقہ آج ہمیں درہ آدم خیل کی سیر کرتے ہوئے اچانک یاد آگیا. بالکل ویسا ہی نقشہ اور وہی مساحی. اور مزے کی بات یہ جب وہاں اتر کر دیکھا تو بہت زبردست ہوائیں. جب مقامی لوگوں سے بات ہوئی تو پتہ چلا یہ اس پورے علاقے میں سارا سال ایسی ہی ہوائیں چلتی ہیں. ماہرین کو فوری طور پر اس علاقے کا اس حوالے سے سروے کرنا چاہیے.

میرے خیال میں یہ دس پندرہ کلومیٹر کا علاقہ اگر ونڈمل پارک میں تبدیل کردیا جائے تو پشاور اور گردونواح کی ساری بجلی کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں. جبکہ اب اس علاقے میں سرے سے بجلی موجود ہی نہیں. جبکہ پشاور کے مضافات میں ایک گھنٹے کے بعد دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے. اسی طرح سات سو کلومیٹر کی کوسٹل ہائی وے پر بھی درجنوں ونڈ مل پارک بن سکتے ہیں.

رہی بات پون چکیوں کی تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک ہمارے پاس اس کی ریورس انجینئرنگ کی تمام تر صلاحیت موجود ہے. سرکار پانچ، سات مختلف استعداد کی چکیاں منگوا کر اکسی سرکاری اداروں میں کھلوا کر ان کی ڈرائنگز بنوادے پاکستان کا نجی صنعتی شعبہ اس قابل ہے کہ عالمی معیار کی مکمل پون چکی مکمل یہاں تیار کرسکتا ہے. سرکار اگر ہمت کرے تو چند سال میں ہم بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت بہت کم کرسکتے ہیں. جس سے ہماری تمام صنعت لاگت میں چینی مصنوعات کا مقابلہ کے قابل ہوسکتی ہے.

ازقلم:  ابن فاضل

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x