بچوں کو کتابیں پڑھنے کی عادت کیسے ڈالی جائے؟

اکثر والدین کو نالاں دیکھا ہے کہ بچے سکرینز نہیں چھوڑتے اور کتب بینی کی طرف راغب نہیں ہوتے کیا کیا جائے ۔ کتاب پڑھنا ایک بہترین اور صحت مند سرگرمی ہے جو بچے کے دماغ کو انگیج کر کے سوچنے سمجھنے اور سوال اٹھانے کی قوت عطا کرتی ہے ۔ کتاب پڑھنے والوں کی ایک الگ ہی دنیا ہوتی ہے ۔ ان کا لیول بھی الگ ہوتا ہے اور کتاب کلب کے ممبرز کی دنیا بھی سلجھی ہوئی اور مثالی سی ہوتی ہے ۔۔۔ کتاب پڑھ کر ہم اپنی دماغی قوت کے بل پر ان چیزوں کو فینٹسائز کر لیتے ہیں بلکہ باقاعدہ غور و فکر کرتے ہیں جو ہمیں متوجہ کرتی ہیں ۔ چیزوں کی فینٹیسی میں مبتلا رہنا یا غور و غوص کرنا آپ کو انگیج رکھتا ہے بہ نسبت کسی بھی بد عادت اور اخلاق کے ۔ آجکل چھوٹے بچوں کے تقریباً تمام ہی والدین کو اس مشکل کا سامنا ہے کہ بچے کو سکرین سے کیسے دور رکھا جائے یا اسکا کتاب سے تعلق کیسے جوڑا جائے ۔ جبکہ جدید ماں باپ گود کے بچے کو چپ کروانے اور مصروف رکھنے کی خاطر بہت چھٹپن میں خود ہی موبائل پکڑا کر یہ عادت پختہ کر چکے ہوتے ہیں ۔
نئے نئے بننے والے ماں باپ نے پیرنٹنگ کا کوئی سلیبس نہیں پڑھا ہوتا نہ ہی پاکستان میں کوئی مستند تربیت گاہ موجود ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے ۔۔۔۔ یہاں بس اپنے سینئرز کو ہی فالو کرنے کا رواج ہے ۔ ہم چونکہ بسلسلہ ملازمت دور دیس میں رہتے تھے بڑوں سے سیکھنے کے مواقع میسر نہیں تھے پھر بھی ہر ماں ماپ کی طرح بچوں کی تعلیم و تربیت کے کچھ انوکھے طریقے اختیار کرنا چاہتے تھے ۔ جب ہماری بڑی بیٹی کلاس ون میں آ ئی اور جوڑ توڑ کے بعد حروف پہچاننے اور پڑھنے لگی تو ہم نے بچوں کے ماہنامے تعلیم و تربیت , نونہال , پھول اور انگلش کی اسٹوری اور پوئم بکس لا کر دینا شروع کیں ۔۔۔۔ گھر میں ٹی وی اور کمپیوٹر کے مخصوص اوقات رکھے-

میں چونکہ گھریلو امور کی انجام دہی کے دوران بھی کتب بینی کرتی رہتی تھی ہنڈیا بھون رہی ہوں تو کتاب ہاتھ میں ہے ۔ دودھ ابال رہی ہوں تو کتاب ہاتھ میں ۔۔ بچے کو فیڈ کروا رہی ہوں تو کتاب ہاتھ میں ہوتی ۔۔ اس وقت اتنی عقل تو نہیں تھی کہ دعویٰ جھاڑ دوں کہ بچی میں شوق پیدا کرنے کی خاطر پڑھتی تھی بلکہ واضح طور یہ عمل ذاتی تسکین کے لئیے کرتی تھی یعنی صرف اپنے شوق کی خاطر پڑھتی تھی ایک نشہ تھا عیاشی تھی جو بنا روک ٹوک وافر میسر تھی کیونکہ مجھے کسی بھی قسم کی اسکرین سے کبھی کوئی شغف نہیں تھا تو یہ عیاشی جاری رہی ۔ کتاب کی کہانی کو تخیل کرنا لامحدود ہوتا ہے جہاں تک چاہے اُڑ جائیے ۔۔۔ وہی کہانی آپ اسکرین پر دیکھ لیجئے فینٹیسی کی ایک باقاعدہ باؤنڈری ہے اس کے آگے کہانی ختم , پیسہ ہضم –
مجھے کتاب پڑھنے اور کتاب سے جُڑے رہنے کا یہ فائدہ ہوا کہ بچی کے فارغ اوقات کا بھی یہی ٹرینڈ بن گیا ۔ ماں اپنی کتاب میں گم بچی بھی چپ چاپ اپنی کتاب میں گم ۔۔۔ یا دوسرے لفظوں میں میری گمشدگی اور خاموشی سے تنگ آکر وہ بھی کتاب میں پناہ ڈھونڈ لیتی ۔ دوسرے بچے جوں جوں بڑے ہوتے گئے تو وہ بھی اس کی دیکھا دیکھی کتابوں میں دلچسپی لینے لگے ۔۔۔ بچوں کو مختلف مواقع پر ہم اسٹوری بکس کے سیٹ ہی بطور گفٹ دیتے تھے بچوں کے دوستوں کو گفٹ دینے کی وجہ بنتی تو ہم کتابوں کے سیٹ اٹھا لاتے ۔ رفتہ رفتہ بچوں میں یہ شوق اتنا بڑھ گیا کہ گھر میں سات آ ٹھ ماہنامے آ نے لگے ۔۔ یہ حال ہوا کہ ہمارے گھر میں کسی بھی چیز سے زیادہ کتابیں آ نے لگیں- 

مرد حضرات گھر میں فروٹ وغیرہ لے کر آ تے ہیں ہمارے صاحب کے ہاتھوں میں بچوں کی دلچسپی کی ایک دو کتابیں ہوتیں تھیں چاہے بچوں کے سلیبس سے ریلیٹڈ ہوں ۔ بچے نئی کتاب کے شوق میں جھپٹ لیتے ۔ اب بھی حال یہ ہے کہ گھر کے جس گوشے میں جائیں کتابیں ہی نکلتی ہیں میٹرس کا کونا ۔ صوفے کے نیچے کچن کی شیلفیں سنگھار میز کی درازیں ، الماریاں اور بک شیلفس تو ہیں ہی انکے لئے ۔۔۔۔ آ پ یقین کیجیے جب ہم نے پچھلے سال چشمہ سے گھر شفٹ کیا تو بہت سی کورس سے ریلیٹیڈ کتابیں ان بچوں کو دے دیں جنہیں کسی بھی طرح سے فائدہ پہنچ سکتا تھا ۔ بعض بچوں کو میں خود جاکے گھروں میں پہنچا کر آئی ۔ رنگین کہانیوں کی بچہ کتابیں دل پہ پتھر رکھ کر چھوٹے بچوں والے کولیگز کو دے دیں ۔ اگرچہ میں یہ تمام کتابیں اپنے بچوں کے بچوں کے لئیے رکھنا چاہتی تھی لیکن اتنا سامان لانا ممکن نہیں تھا اس لئے لمبی پلاننگ والی کتابوں کی قربانی دینا پڑی ۔۔اس سب کے باوجود دو گاڑیاں ان کتابوں سے لد گئیں جنہیں ہم نے خیر باد کہنا تھا –
بات کہاں سے کہاں نکل گئی ۔ آپ بچوں میں جو عادات پروان چڑھانا چاہتے ہیں اس کا سب سے بہترین طریقہ جو میرا آ زمودہ ہے آ پ خود وہی کچھ کرنا شروع کر دیجیئے ۔ بچے نصیحت سے چڑتے ہیں ۔ بچوں میں نماز روزے کی عادت پختہ کرنی ہے تو اپنی نمازیں پکی کر لیجئے , تلاوت کی روٹین بنا لیجئے اخلاق سنوارنا چاہتے ہیں تو کتابیں پڑھنا شروع کر دیجئے بھلے منہ سے نصیحت نہ کیجئے-

 بچے میں صدقہ خیرات کی اہمیت و عادت راسخ کرنی ہے تو گھر کے ملازمین یا غریب غربا کو دینا دلانا قصداً بچے کے سامنے کیجیے ۔ بچوں کو عموماً کتابوں کے تحائف دیجیئے اگر بچے کو شوق نہیں بھی ہے تب بھی کتابیں لا لا کر رکھتے رہئے ایک دن بچہ کھولنے لگے گا ۔ کبھی چھٹی کے روز بچوں کو ایک ساتھ لیکر بیٹھئے کہیں کہیں سے کوئی اچھی بات کوئی اچھا مکالمہ یا کتابوں میں درج کوئی ایسا انہونا واقعہ جو ابھی ابھی بچوں کے سامنے گھر میں یا محلے میں یا خاندان میں وقوع پذیر ہوا ہو بچوں کو پڑھ کر سنائیے ۔ اس کے فائدے اور نقصانات پر روشنی ڈالئے ۔ کیونکہ کتنا بھی تلخ یا بھیانک واقعہ ہو کتاب میں تمیز سے ہی لکھا جاتا ہے ۔۔ اس سے اس واقعے کی تلخی بھی کم ہوجائے گا اور بچوں میں باقاعدہ دلچسپی پیدا ہونی شروع ہو جائے گی –

ازقلم: زارامظہر

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x