ذہین لیکن سست رو بچے

کچھ بچے زیادہ ذہین ہونے کے باوجود slow learner سست متعلم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کے سمجھنے اور سیکھنے کے دوران وہ اس کو سوچ بھی رہے ہوتے ہیں، اسی وقت اس کے تجزیے میں بھی لگے ہوتے ہیں۔ یعنی دو پراسس ایک ساتھ ان کے دماغ میں چل رہے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی سیکھنے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ ایسے بچوں کو غبی یا کند ذہن سمجھ لیا جاتا ہے، پھر جب ان کے ساتھ بار بار یہی پیش آتا ہے تو ہمارے ہاں کے جلد باز والدین جو بچوں کے ساتھ بڑی بڑی توقعات وابستہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں، اور اساتذہ انہیں غبی اور کند ذہن ڈکلیئر کر دیتے ہیں۔ بچے خود بھی نا سمجھی کی عمر میں ہوتے ہیں، اس لیے وہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ غبی اور کند ذہن ہیں۔ ان کی سیکھنے کی امنگ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ یوں ایک متوقع ذہین دماغ غلط تشخیص سے ضائع ہو کر رہتا ہے۔

آپ سنتے ہوں گے بہت سے ذہین قرار پانے والے لوگ اپنے بچپن میں کند ذہن سمجھے جاتے تھے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے جو بیان ہوئی۔ سچ یہ ہے کہ اس طرح کے اکثر بچے ہمارے سماج میں ضائع ہی ہوتے ہیں اور بہت معمولی کارکردگی سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ کسی ذہین کا خود کو غبی اور نالائق سمجھ کر زندگی بسر کرنا بڑی اذیت کی بات ہے۔

ایسے بچوں کو بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ پڑھانا پڑتا ہے۔ انتظار کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنا دماغی پراسس پورا کر لیں اور ایک ایک قدم سمجھ کر آگے بڑھیں۔

یہ بچے گروپس میں پوی طرح سیکھ اور سمجھ نہیں پاتے، کیونکہ گروپس کو اوسط رفتار سے لے کر چلنا استاد کی مجبوری ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کو انفرادی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان بچوں کی پہچان یہ ہے کہ اپنے اطمینان کے ساتھ جب انہیں کچھ کرنے کا موقع ملتا ہے اور بہت اعلی درجے کا کام کر لیتے ہیں۔ اس وقت استاد اور والدین حیرت سے پوچھتے ہیں کہ اتنا کچھ کر سکتے ہو تو دوسرے اوقات میں سمجھنے میں سستی کیوں دکھاتے ہو۔ اس کا جواب بچے کے پاس نہیں ہوتا، لیکن والدین اور استاد کے پاس ہونا چاہیے۔

  ازقلم:  ڈاکٹر عرفان شہزاد

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x