آن لائن دھکمیوں یا بلیک میلنگ کی صورت میں کیا کریں؟

کوئی آپ کو ہراساں کر راہا ہے ۔ فوری طور پر اپنے کسی با اعتماد قریبی رشتہ دار کو بتائیں ۔ یہ آپ کا اپنی حفاظت کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ آپ کی کمزوری بلیک میلر کو مزید مظبوط کر تی ہے ۔

اپنی حفاظت کی طرف آپ کا دوسرا اور انتہائی اہم قدم بلیک میلر کیخلاف قانونی فورمز سے رابطہ کرنا ہے۔ اس مرحلے پر آپ کو کرنا کیا ہے؟ سب سے پہلے تو ثبوت محفوظ کریں۔ بلیک میلر یا دھمکیاں دینے والا آپ کو  فون کر کے دھمکاتا ہے۔ تو محسوس کرائے بغیر اس سخص کی کال کی ریکارڈنگز محفوظ کرنا شروع کر دیں۔ یہ دھکمکیاں یا بلیک میلنگ پیغامات کی صورت میں ہو تو ان میسجز کے اسکرین شاٹس محفوظ کر یں۔ بیغام بھیجنے والے کا نمبر نمایاں ہو۔ ان فون کالز اور میسجز کے ٹائم اور تاریخ کا ریکارڈ بھی رکھیں۔ جب کچھ ثبوت اکٹھے ہو جائیں تو فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم کی ہیلپ لائن 9911 پر رابطہ کریں۔ ایف آئی اے کی ایک اور ہیلپ لائن 111345786  بھی موجود ہے۔آپ اس پر بھی رابطہ کر کے تفصیلات شئیر کر سکتے ہیں ۔ آپ کے پاس انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے تو ایف ائی اے کی ویب سائٹ کھولیے اور فوری طور پر آن لائن شکایت بھی درج کریں۔ بلیک میلکنگ یا دھمکیوں کے پیغامات کے محفوظ شدہ اسکرین شاٹس ، کال ریکارڈنگز بھی اٹیچ کر دیں۔ اس آن لائن شکایت کا نمبر یا اسکرین شاٹ بھی اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کا دفتر آپ کے قریب ہی کہیں موجود ہے تو آپ بذات خود جا کر بھی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

2016 کے سائبر کرائمز قوانین کے تحت آن لائن ہراساں کرنے، دھمکانے اور بلیک میل کرنے کے جرائم کی کڑی سزائیں رکھی گئی ہیں ۔ کمزور نہ پڑیں پر اعتماد اور مضبوط رہ کر مجرموں کو سزا دلوائیں۔

ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ 25 ڈی کے تحت بھی فون پر ہراساں کرنا ، دھکمانا جرم ہے۔ سزا 3 سال تک قید اور جرمانہ ہے۔

ازقلم: طاہر چوہدھری ایڈووکیٹ ، ہائیکورٹ لاہور

 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x