قانون چوکس رہنے والوں کی حفاظت کرتا ہے۔

علاقے کے ایک گھر میں ڈکیتی ہوئی۔گھر والوں نے نامعلوم افراد کیخلاف ایف آئی ار کٹوائی۔پولیس شبے میں ہمسائے کو اٹھا کر لی گئی۔یہ شخص ایف آئی ار میں نامزد نہیں تھا۔تتمہ بیان میں بھی اسے نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں تھا۔اس پر تشدد کیا گیا۔کہا گیا کہ جرم قبول کر لو۔ہمیں پتہ ہے ڈکیتی میں تم ہی ملوث ہو۔ یہ شخص مار کھاتا رہا لیکن جرم قبول نہیں کیا۔جرم کیا ہوتا تو قبول کرتا۔
اس شخص کو 24 دن تک حراست میں رکھا گیا۔ریمانڈ لئے بغیر کسی بھی ملزم کو 24 گھنٹے سے زائد حراست میں رکھنا غیر قانونی ہے۔اس شخص پر کوئی ایف ائی ار نہیں تھی۔لہذا ریمانڈ بھی نہیں لیا جاسکتا تھا۔اور تشدد تو تھا ہی جرم۔اس پر تو مدعیان کی طرف سے کوئی الزام بھی نہیں تھا۔کسی بھی ایف ائی ار میں نامزد ہوئے بغیر اسے 24 دن تک حراست میں رکھنا سراسر غیر آئینی،غیر قانونی اور ظلم تھا۔
ان صاحب نے 2 دن پہلے مجھے فون کیا۔کہانی سن کر افسوس ہوا۔میں نے کہا اپ نے کسی طرح کسی وکیل سے رابطہ کرنا تھا۔وہ عدالت میں اپ کی طرف سے درخواست دائر کرتا۔اپ ظلم سے بچ جاتے۔بولے پولیس والوں نے سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ خبردار عدالت گئے۔مجھے ان کا ڈر تھا۔ان کے منع کرنے کی وجہ سے عدالت سے رجوع نہیں کیا۔اب 3 لاکھ روپے لے کر چھوڑ دیا ہے۔
یہ اس ملک میں ایک عام ادمی کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے۔
پولیس نے تو اس کے ساتھ ظلم کیا ہی۔اس نے خود بھی اپنے اپ کیساتھ ظلم کیا۔ اس نے ہمت نہیں کی۔ اسے اپنے حقوق کا پتہ نہیں تھا۔ اسے پتہ نہیں تھا کہ وہ کس طرح اس عذاب سے نکلے۔ یہی حالت اس ملک میں بسنے والے اکثر لوگوں کی ہے۔ اپنے حقوق اور قانونی فورمز کا پتہ نہ ہونے اور طریقہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ مار کھاتے ہیں۔ اپنا نقصان کرواتے ہیں۔
پولیس اس طرح کسی وکیل کو اٹھا کر تھانے میں بند کیوں نہیں کرتی؟ کیونکہ اسے پتہ ہے کہ اسے قانون اور اپنے حقوق کے بارے میں اگاہی ہے۔یہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ الٹا ہمیں پھنسا دے گا۔
قانون کہتا ہے کہ وہ اسکی حفاظت کرتا ہے جسے خود اپنے حق کا پتہ ہو۔بنیادی قوانین اور حقوق سے لاعلمی اسے مار پڑواتی ہے۔
Law protects the vigilant.

میں بھی اسی مقصد کیلئے ایک جدوجہد کر رہا ہوں۔ یہ اگر چہ ایک چھوٹے پیمانے پر ہے۔تاہم میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایک شخص تک بھی میرا پیغام پہنچتا ہے۔تو یہ بھی میری کامیابی ہے۔ ہم سب کو قانون سے اگاہی، قانون کی عملداری کی جدوجہد کرنا ہوگی۔ قانون کی خلاف ورزی پر اواز بلند کرنا ہوگی۔ اج ہم نہ بولے تو کل ہمارے بچوں کو،ہماری اگلی نسلوں کو ہم سے بھی زیادہ برے حالات دیکھنا پڑیں گے۔ وہ یقینا ہمیں بھی اس کا قصور وار ٹھہرائیں گے کہ ہم نے ان کے بہتر مستقبل کیلئے کوئی جدوجہد نہیں کی تھی۔ قانون اور اپنے حقوق سے اگاہی رکھیے۔اپنے اپ کو محفوظ بنائیے۔

    ازقلم :طاہر چودھری،ایڈووکیٹ ہائیکورٹ،لاہور     

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
simreen kashif
simreen kashif
1 month ago

nice

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x