لین دین میں دھوکےسےبچنےکاطریقہ!

دو دوست سعودی عرب میں ایک ہی جگہ پر ملازمت کرتے تھے۔ ایک نے دوسرے کو کہا کہ ادھر ہی رہتے ہوئے پاکستان میں بھی پارٹنر شپ پر کوئی کاروبار شروع کرتے ہیں۔ اس نےکہا کہ وہاں میری زمین موجود ہے۔ اس پر ڈیری فارمنگ شروع کریں۔ زمین میری اور اوپر خرچہ آدھا آدھا کرتے ہیں۔منافع میں سے دونوں کا آدھا آدھا ہوگا۔ دوسرے دوست کو یہ پیشکش فائدے والی لگی کہ زمین بھی اس کی ہے اور سرمایہ کاری میں بھی وہ آدھا حصہ ڈال رہا ہے جبکہ منافع دونوں میں برابر ہوگا۔ اس نے ہامی بھر لی۔ چند ماہ میں اس نے اپنے اس دوست کو کاروبار کیلئے 30 لاکھ روپے دے دیے۔ یہ پیسے وہ اسے سعودی عرب میں ہی کیش کی صورت میں ہی دیتا رہا۔ ایک سال بعد تک بھی اس دوسرے دوست کو منافع میں سے کچھ بھی حصہ نہ ملا تو اس نے اپنے پیسے واپس دینے کا تقاضا شروع کردیا۔ پہلا دوست کچھ عرصہ تو اسے تسلیاں دیتا رہا لیکن کچھ عرصے بعد وہ سرےسے ہی مکر گیا کہ اس نے اسے کوئی پیسے دیے بھی تھے۔
دوسرا دوست پریشان ہے۔ اس کے پاس پہلے دوست کو دیے گئے پیسوں کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے۔سوائے سعودی عرب میں ہی ساتھ کام کرنے والے دو تین اور دوستوں کی زبانی گواہی کی۔ اس متاثرہ نوجوان نے مجھ سے مشورہ مانگا کہ میرا کیس کریں۔ 
میں نے اسے بتایا ہے کہ پیسوں کی ادائیگی کا کسی بھی طرح کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے آپ خالی ہاتھ ہیں۔ آپ کسی بھی فورم پر جائیں تو آپ سے ثبوت مانگے جاتے ہیں۔ کیس کرنے کا کہہ کر شاید کوئی صاحب آپ سے پیسے پکڑ بھی لیں۔لیکن آپ کا بنے گا کچھ بھی نہیں۔ آپ کا وقت اور مزید پیسہ ضائع ہوگا۔
یہ مختصر کہانی مفاد عامہ کیلئے شیئر کی۔ لین دین کریں تو ثبوت لازمی محفوظ رکھیں۔ تحریری معاہدہ کر لیں۔ اسٹامپ پیپر موجود نہیں بھی ہے تو کسی سادہ کاغذ پر ہی تحریر لکھ کر فریقین کے دستخط اور انگوٹھے اور دو گواہوں کے دستخط اور انگوٹھے لگوا لیں۔ مشکل وقت میں کاغذ کا یہ ٹکڑا بھی کام آئے گا۔ بینک کے ذریعے پیسوں کی ٹرانسفر بھی ہوتی تو پھر بھی کچھ امید ہوتی کہ یہ ایک ثبوت ہے کہ پیسے ادا کئے گئے تھے۔
آپ بھی محتاط رہیے۔

ازقلم: طاہر چودھری،ایڈووکیٹ ہائیکورٹ،لاہور۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x