واردات کا طریقہ چیک کیجئے گا۔

کراچی کے علاقے منگھو پیر میں 4 روز قبل 15 سالہ طالبعلم بچہ اغوا ہوا۔اغوا کاروں نے رہائی کیلئے 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ والدین غریب تھے۔ پیسے ادا نہیں کر سکتے تھے۔ بچہ جہاں پڑھتا تھا اسی اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے خدا ترسی کی ٹھانی۔ تاوان کی رقم اس نے دینے کا اعلان کر دیا کہ غریب والدین کو ان کا بیٹا واپس ملے جائے اس سے بڑی نیکی کیا ہو گی دنیا میں۔ والدین خوشی سے نہال ہو گئے کہ ہیڈماسٹر کو خدا نے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے۔ وہ اس کی نیکی کا بدلہ کبھی بھی نہیں چکا سکیں گے۔
یہ معاملہ کسی طرح پولیس تک بھی پہنچ چکا تھا۔ والدین اغوا کی درخواست دے چکے تھے لیکن اب اس پر کارروائی نہیں کروانا چاہتے تھے کہ ہیڈماسٹر صاحب کی وجہ سے انہیں ان کا بیٹا واپس مل رہا ہے تو پولیس کی مداخلت سے کہیں معاملہ بگڑ ہی نہ جائے۔ان کے بیٹے کی زندگی کو ہی خطرہ نہ لاحق ہو جائے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کی صائب رائے بھی یہی تھی کہ اگر وہ خود پیسے دے رہے ہیں اور والدین کو ان کا بیٹا بھی واپس مل رہا ہے تو بہتر یہی ہے کہ پولیس کو انوالو نہ کریں۔ آج کل کے حالات کا تو پتہ ہی ہے۔ یہ نہ ہو اغوا کاروں کو اس کی بھنک پڑے اور وہ غصے میں کوئی انتہائی قدم نہ اٹھا لیں۔ والدین نے پولیس کو منع کر دیا۔
درخواست واپس ہونے کے باوجود پولیس نے اپنے طور پر کارروائی جاری رکھی۔ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل اور سٹیزن پولیس لائزن کمیٹی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دو دن قبل ہیڈ ماسٹر کو ہی گرفتار کر لیا۔
کہانی کیا تھی؟
ہیڈ ماسٹر صاحب اپنے اسکول کے اس طالبعلم بچے کی بہن سے شادی کے خواہاں تھے۔ بچے کو اپنے ایک ساتھی کی مدد سے اغوا کروایا۔ خود ہی تاوان کا مطالبہ کیا اور خود ہی خود کو تاوان کی رقم دینے پر بھی تیار ہو گئے۔
رشتہ بھجوانے سے پہلے اپنے سسرال والوں کے دل میں اپنے لئے نرم گوشہ اور نیک جذبات پیدا کرنا چاہتے تھے۔ یہ طریقہ سوجھا۔
ہیرو کا رشتہ آیا ہے۔
ماسٹر مائنڈ ہیڈ ماسٹر فضل صاحب اور انکے دوست ارسلان صاحب اب پولیس کے مہمان ہیں۔

 

ازقلم: طاہر چودھری،ایڈووکیٹ ہائیکورٹ،لاہور۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x