آپ کےزخم اس طرح بھی ٹھیک ہوسکتےہیں!

ہم سب یہ مانتے ہیں کہ احتیاط نہ کی جائے تو جسم زخمی ہوسکتا ہے. اللہ رب العزت نے انسانی جسم میں ہی زخم بھرنے کی صلاحیت بھی رکھی ہوئی ہے. بس کچھ وقت اور کچھ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے. لیکن اگر زخم بڑا ہو تو ہمیں طبعی مدد کی ضرورت ہوتی ہے. یہ مدد کیا ہوتی ہے؟ یہ ٹانکے ہو سکتے ہیں یا وہ مرہم پٹی جو زخم میں انفیکشن یعنی پیپ نہ بننے دے. یہ درد کش دوا ہوسکتی ہے. اور اگر خون زیادہ ضائع ہوگیا ہو تو کسی دوسرے کے خون کی مدد ہوسکتی ہے.

فرض کیا آپ کو کوئی دوسرا جانے انجانے میں زخم دے، وہ جسے آپ کچھ کہہ بھی نہ سکیں، یا اس وقت جواب دینے کی پوزیشن میں نہ ہوں. آپ کیا کریں گے.؟ کچھ لوگ مرہم پٹی کر لیں گے. کچھ ایسے بھی ہوں گے جو بدلہ لینا چاہیں گے. فرض کیا وہ اس بدلے کیلئے اپنا زخم تازہ رکھیں، روز اسے کرید کر خود کو یاد دلائیں میں زخمی ہوں، اور مجھے فلاں نے زخم دیا وغیرہ. تو آپ اسے کس نظر سے دیکھیں گے؟

انسانی دماغ اپنی insult یعنی بے عزتی کو زخم کی طرح دیکھتا ہے. جتنی بڑی بے عزتی ہوتی ہے اتنا بڑا نشان عزت نفس پر پڑتا ہے. اب کچھ لوگ معاف کرنا اور معافی مانگنے کی مرہم پٹی فوری کر لیتے ہیں اور کچھ بدلے کیلئے اسے دل میں بسا لیتے ہیں. دماغ پھر یاد تازہ رکھنے کیلئے اپنا زخم روز کرید کر چیک کرتا ہے. روزانہ آپ کو بے عزت کرتا ہے. جب تک آپ بدلہ نہ لے لیں. جیسے ہی بدلہ لیتے ہیں دماغ کہتا ہے مجھے ٹھنڈک مل گئی.

لیکن اس زخم اور بدلے کے درمیانی وقفے میں جو پیپ بنتی ہے اسے کینہ کہتے ہیں. دماغ کو ٹھنڈک تو مل جاتی ہے لیکن کینے کی پیپ آپ کی شخصیت کو بدبودار بنا دیتی ہے. اس لئے معافی مانگنے اور معاف کرنے کی فضیلت ہے. آج آپ کے زخم بھی جلد مندمل ہوتے ہیں اور کل روز محشر کی ٹھنڈک آپ کی منتظر ہوتی ہے.

ازقلم: ریاض علی خٹک

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x