تقدیرکو دیکھنےکانیازاویہ

کہتے ہیں کہ ایک شخص گھر سے مزدوری کے لیے نکلا۔ وہ کسی تاجر کی تلاش میں تھا جو اس سے کام لے اور اس کو معاوضہ ادا کرے۔ وہ جس منڈی کی طرف جا رہا تھا اس کے راستے میں ایک سنسان جنگل تھا۔ وہ ذرا سستا نے کے لیے بیٹھا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک چڑیا کا بچہ اپنے گھونسلے میں بیٹھا "چیں چیں” کر رہا ہے ۔ شائد اسے بھوک لگی ہو گی۔ اس کی ماں اس کے لیے دانہ دنکا لانے کے لیے کہیں گئی ہو گی شائد کسی شریر بچے کی غلیل کے پتھر کی زد میں اآکر مر چکی ہو گی۔ وہ اس کے بارے میں ابھی غور کر رہا تھا کہ ایک عقاب آیا اور اس کے کھلے منہ میں کھانے کی کوئی چیز ڈال کر چلا گیا۔

مزدور کا ذہن فوراَ یہ سوچنے لگ گیا کہ روزی تو یوں بھی مل جاتی ہے کہ عقاب نے بجائے اسے اپنا نوالہ بنا لینے کے ، اس کے منہ میں چوگ ڈال دی ہے تو میں کیوں مارا مارا پھر رہا ہوں؟ میری تقدیر میں جو لکھا ہے، مجھے بھی مل کر رہے گا۔ چنانچہ اس  نے روزی کی تلاش ترک کر دی اور چڑیا کے بچے کی طرح انتظار میں بیٹھ گیا۔ دو دن گزر گئے تو بھوک بری طرح ستانے لگی ۔ اتنی ہمت بھی نہ رہی کہ جس منڈی کو جانے کے ارادے سے نکلا تھا، اس کی طرف کا باقی ماندہ فاصلہ ہی طے کر لے۔ چنانچہ وہ سو گیا۔

خواب میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک بزرگ صورت شخص نے اس سے کہا کہ جو کچھ تو نے دیکھا وہ درست تھا۔ مگر تو نے چڑیا کا ایک کمزور بچہ بننے کے بارے ہی میں کیوں سوچا عقاب بننے کا کیوں نہیں سوچا؟اٹھ ہمت کر اور عقاب بننے کی فکر کر اور کما، خود بھی کھا اور اپنے سے کمزوروں کو بھی کھلا۔

اس نے چڑیا کے بچے کی بے بسی ہی سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کی تھی، حالانکہ وہ اشرف المخلوقات میں سے تھا۔ ظاہر ہے کہ اس نے تقدیر کو سرے سے سمجھا ہی نہیں تھا۔

تقدیر کا مسئلہ صرف کتاب سنت  کی روشنی میں سمجھنے پر موقوف ہے۔ اس میں قیاس اور عقل کا مطلق دخل نہیں ہے ۔ جو شخص کتاب و سنت کی روشنی سے ہٹ کر اسے مجھنے کی کوشش میں لگا وہ گمراہ ہو گیا اور حیرت و استعجاب کے دریا میں ڈوب گیا اور اس نے چشمہ شفا کو نہیں پایا اور نہ اس چیز تک پہنچ سکا جس سے اس کا دل مطمئن ہو سکتا۔ اس لیے کہ تقدیر اللہ کے بھیدوں میں سے ایک خاص بھید ہے۔ اللہ نے اپنی ذات علیم و خبیر کے ساتھ اس کو خاص کیا ہے اور مخلوق کی عقلوں اور ان کے علوم اور تقدیر کے بیچ میں پردے ڈال دیے ہیں۔ یہ ایسی حکمت ہے جس کا علم کسی مرسل نبی اور مقرب فرشتے کو بھی نہیں دیا گیا۔

تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے اور جز و ایمان ہے۔ یعنی جو کچھ برا بھلا اور چھوٹا بڑا دنیا میں قیامت تک ہونے والا تھا، وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں ٹھہر چکا ہے۔ اسی کے مطابق ظاہر ہو گا اور بندے کو ایک ظاہری اختیار دیا گیا ہے جسے کسب کہتے ہیں۔

حاصل یہ ہے کہ بندہ نہ بالکل مجبور ہے اور نہ بالکل مختار ہے۔ 

سید نا عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ "اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال قبل تمام مخلوقات کی تقدیر لکھ دی تھی۔ اس وقت پر وردگار کا عرش پانی پر تھا”

فرمان باری تعالیٰ ہے

"زمین میں اور تمہاری جانوں پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تو کتاب میں (لکھی ہوئی)ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں یقیناَ یہ اللہ پر بہت آسان ہے”(الحدید 22:57)

ایک موقع پر نبی اکرام ﷺ نے سیدنا ابن عباس رض کو چند نصیحتیں کیں ان میں سے ایک یہ تھی۔

"تجھے یقین ہو نا چاہیے کہ اگر تمام امت تجھے کوئی فائدہ پہنچانے پر جمع ہو جائے تو وہ تجھے فائدہ نہیں پہنچا سکتی مگر اسی قدر کہ جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھا ہے اور اگر تمام لوگ تجھے نقصان پہنچانے پر جمع ہو جائیں تو تجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اسی قدر کہ جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے مقدر میں لکھا ہے۔ قلمیں اٹھالی گئیں اور صحیفے خشک ہو گئے

ابن ویلمی کو نصیحت کرے ہوئے سید نا ابی بن کعب رضہ نے کہا تھا”جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچنا ہے وہ کسی صورت ٹل نہین سکتا اور جو ٹل گیا وہ کسی صورت تمہیں پہنچ نہیں سکتا۔

سیدنا ابو ہریرہ رض کو نصیحت کرتے ہوئے نبی رحمت ﷺ نے فرمایا

"ان کاموں کی حرص کر جو تیرے لیے مفید ہیں( آخرت میں کام آئیں) اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ اور ہمت نہ ہار اور اگر تجھ پر کوئی مصیبت آئے تو یوں مت کہہ : اگر میں ایسے کرتا تو ایسا ایسا ہو جاتا ، لیکنن یوں کہہ ” اللہ کی تقدیر میں ایسے ہی لکھا تھا، اس نے جو چاہا کیا کیونکہ اگر مگر کرنا شیطان کے لیے راہ کھولنا ہے”

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x