جیناہےتواس قانون کو سمجھ لیں!

زندگی ایک امتحان ہے۔ یہ اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور اسی حقیقت کو سمجھنے میں ہماری تمام کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے، خواہ وہ دنیا کی کامیابی ہو آخرت کی کامیابی۔

آخرت کے لحاظ سے ،گائے دودھ دیتی ہے یہ ہر آدمی جانتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو یہ سوچے ہوں کہ گائے کیسے دودھ دیتی ہے ۔ گائے دودھ جیسی چیز دینے کے قابل صرف اس بنتی ہے جب کہ وہ گھاس کو دودھ میں کنورٹ ( تبدیل) کر سکے۔ گائے جب اس انوکھی صلاحیت کا ثبوت دیتی ہے کہ وہ کمتر چیز کو اعلیٰ چیز میں تبدیل کر سکتی ہے ۔ اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں دودھ جیسی قیمیتی چیز  فراہم کرنے والی بنے۔ یہی حال درخت کا ہے ۔ درخت سے آدمی کو دانہ اور سبزی اور پھل ملتا ہے۔ مگر ایسا کب ہو تا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے  جب کہ درخت اس صلاحیت کا ثبوت دے کہ اس کے اندر مٹی اور پانی ڈالا جائے اور اس کو وہ تبدیل کر کے دانہ اور سبزی اور پھل کی صورت میں ظاہر کرے۔ درخت کے اندر ایک کمتر چیز داخل ہوتی ہے اور اس کو وہ اپنے اندرونی میکانزم کے ذریعہ تبدیل کر دیتا ہے  اور اس کو برتر چیز کی صورت میں باہر لاتا ہے۔

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ زندگی بھی اسی قسم کا امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے کہ اس کا محرومیوں سے سابقہ پڑتا ہے، اس کو ناخوش گوار حالات پیش آتے ہیں۔ یہاں دوبارہ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر سکے۔ وہ اپنی ناکامیوں کے اندر سے کامیابی کا راستہ نکال لے۔ یہی دنیا کا قانون ہے، انسان کے لیے بھی اور غیر انسان کے لیے بھی۔ جو کوئی اس خاص صلاحیت کا ثبوت دے وہی اس دنیا میں کامیاب ہے اور جو اس صلاحیت کا ثبوت دینے میں ناکام رہے وہ خدا کی اس دنیا میں اپنے آپ کو ناکامی سے بھی نہیں بچا سکتا۔ خدا کی مخلوق گائے گو یا خدا کی مرضی کا اعلان ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں خدا کو ہم سے کیا مطلوب ہے۔ خدا کو ہم سے یہ مطلوب ہے کہ ہمارے اندر “گھاس“ داخل ہو اور وہ “دودھ“ بن کر باہر نکلے۔ لوگ ہمارے ساتھ برائی کریں تب بھی ہم ان کے ساتھ بھلائی کریں ۔ ہمارے ساتھ ناموافق حالات پیش آئیں تب بھی ہم ان کو موافق حالات میں تبدیل کر سکیں۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x