سکون حاصل کرنےکاایک راز

دُنیا کے مشہور مصوروں کو عالمی مقابلہ مصوری میں بہترین منظر نگاری کی دعوت دی گئی. مصوروں نے ایک سے ایک خوبصورت شاہکار تخلیق کئے. کسی نے نیلے آسماں کے نیچے خوبصورت سر سبز وادی نقش کی کسی نے جھیل تو کوئی آسماں کو چھوتے پہاڑ پینٹ کر کے لایا.

مقابلہ جیتنے والی تصویر لیکن ایک تاریکی میں ڈوبی آندھی طوفان میں کھڑے اس تنہا گھر کی تھی جس کی روشن کھڑکی سے ایک شخص کا پرسکون چہرہ باہر دیکھ رہا تھا. امن اور سکون دنیا کی وہ سب سے بڑی نعمت ہے جسے نہ آپ پیسوں سے خرید سکتے ہیں نہ یہ آپ کو کوئی دے سکتا ہے. یہ آپ کا خود کو دیا اپنا انعام ہے.

قرآن مجید سورۃ القصص آیت 73 میں کہتا ہے وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَـكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ۞ یعنی "یہ تو اسی نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات بھی بنائی ہے اور دن بھی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور اس میں اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔”

امن و سکون معاف کر دینے اور معافی مانگ لینے میں ہے. جب ہم معاف کرتے ہیں تو دماغ میں غصہ اور انتقام کی آندھیاں شانت ہو جاتی ہیں. جب ہم معافی مانگ لیتے ہیں تو احساس جرم اور خود کو درست ثابت کرنے کی مقدمہ بازی سے نکل آتے ہیں. جب ہم نہ جج بنتے ہیں نہ وکیل تو سکون خود پھر ہمیں تلاش کرتے آجاتا ہے.

زندگی کے اس مقابلہ میں اگر ایک پرسکون فاتح کی طرح کھڑا ہونا سیکھنا ہے تو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھ لو. اللہ کے فضل اور کرم سے آپ شکر گزار بندوں میں شمار ہوں گے.

ریاض علی خٹک

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x